دہلی اسمبلی کے مانسون اجلاس کا آغاز جمعہ کے روز شدید ہنگامے کے ساتھ ہوا۔ عام آدمی پارٹی (AAP) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے اراکین اسمبلی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ اس حد تک بڑھ گیا کہ صورتحال جسمانی تصادم کے قریب پہنچ گئی، تاہم دیگر اراکین نے فوری مداخلت کرتے ہوئے معاملہ سنبھال لیا۔
ہنگامے کے دوران AAP کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار اور BJP کے رکن روی نیگی کے درمیان سخت بحث ہوئی۔ جیسے ہی کشیدگی بڑھی، دوسرے اراکین نے دونوں کو الگ کر دیا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک لیا۔
اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے اس واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی عزت اور پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنا ہر رکن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی رکن اپنی نشست چھوڑ کر دوسرے رکن کی طرف نہ جائے اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اسی دوران محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) کے وزیر پرویش ورما نے قائدِ حزبِ اختلاف آتشی پر تبصرہ کیا کہ وہ مانسون اجلاس کے دوران گوا گئی ہوئی ہیں، جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزید تلخی پیدا ہوگئی۔
مسلسل شور شرابے اور احتجاج کے بعد اسپیکر نے AAP کے پانچ اراکین—سنجیو جھا، کلدیپ کمار، وشیش روی، جرنیل سنگھ اور سوم دت—کو مارشلز کی مدد سے ایوان سے باہر بھجوا دیا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
ایوان کے باہر بھی عام آدمی پارٹی کے اراکین نے او آر ایس کے پیکٹوں کی مالائیں پہن کر احتجاج کیا اور دہلی میں مبینہ 650 کروڑ روپے کے میڈیکل گھوٹالے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)




.webp)


