بہار کے پنچایتی راج وزیر دیپک پرکاش کی تقرری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہم آئینی سوالات اٹھائے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے بہار حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ریاستی اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن نہیں ہے تو وہ آئین میں مقررہ چھ ماہ کی مدت سے زیادہ عرصے تک وزیر کیسے رہ سکتا ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل *164(4)* کے مطابق کوئی بھی غیر منتخب شخص صرف چھ ماہ تک وزیر رہ سکتا ہے۔ اگر وہ اس مدت کے اندر کسی ایوان کا رکن منتخب نہیں ہوتا تو اسے وزارت چھوڑنی ہوتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ دیپک پرکاش پہلے نتیش کمار کی حکومت میں تقریباً چار ماہ اور چھبیس دن تک وزیر رہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد کچھ دن وہ وزیر نہیں رہے، لیکن نئی حکومت کے قیام کے بعد دوبارہ انہیں وزیر کے طور پر حلف دلایا گیا، حالانکہ وہ اس وقت بھی کسی ایوان کے منتخب رکن نہیں تھے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اس طرح دوبارہ حلف دلا کر چھ ماہ کی آئینی مدت کو ازسرِنو شروع نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسا کرنا آئین کی روح اور مقصد کے خلاف ہوگا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا کوئی وزیر چھ ماہ مکمل ہونے سے پہلے استعفیٰ دے کر چند دن بعد دوبارہ حلف لے اور پھر نئی چھ ماہ کی مدت کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک تقرری کا نہیں بلکہ آئین کی تشریح سے متعلق ایک اہم قانونی سوال ہے۔
عدالت نے بہار حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی جواب داخل کرے اور واضح کرے کہ موجودہ تقرری آئینی دفعات کے مطابق کیسے ہے۔
اس مقدمے کا فیصلہ مستقبل میں دیگر ریاستوں کے لیے بھی اہم نظیر بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے غیر منتخب وزراء کی تقرری اور ان کی مدتِ کار کے بارے میں آئینی تشریح مزید واضح ہو سکتی ہے۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)





.webp)


