تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
یوپی اب فساد نہیں، جشن کا صوبہ ہے: یوگی


اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مین پوری میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں قانون و انتظام، ترقی اور عوامی تحفظ کے حوالے سے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں اتر پردیش کی شناخت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب یہ ریاست فساد، جرائم اور بدامنی کے بجائے ترقی، سرمایہ کاری اور تہواروں کے لیے جانی جاتی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اتر پردیش کا نام اکثر فسادات، جرائم اور بدامنی کی خبروں میں آتا تھا، لیکن اب ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہو چکی ہے اور مجرموں کے خلاف مسلسل سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

اپنے خطاب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا، *"آج اتر پردیش فساد زدہ نہیں بلکہ جشن کا صوبہ بن چکا ہے۔"* ان کے مطابق ریاست میں مذہبی، ثقافتی اور سماجی تقریبات پرامن ماحول میں منعقد ہو رہی ہیں، جس سے ریاست کی نئی شناخت قائم ہوئی ہے۔

انہوں نے مجرموں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ *"اتر پردیش میں مجرموں کے لیے اب صرف دو ہی جگہیں باقی ہیں، جیل یا جہنم۔"* ان کا کہنا تھا کہ حکومت جرائم کے معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برت رہی اور قانون توڑنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بہتر قانون و انتظام کی وجہ سے ریاست میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، صنعتوں کو فروغ ملا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ ماحول کی وجہ سے اتر پردیش سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے سڑک، بجلی، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مختلف ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور ریاست کی ترقی میں تعاون کی اپیل کی۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جہاں ان کے حامی اسے حکومت کی کامیاب قانون و انتظام کی پالیسی قرار دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اس بیان پر ردعمل آنے کی توقع ہے۔
 

News Image

1. راہل گاندھی کی جائیداد کے معاملے میں چیف جسٹس کی سرزنش، پوچھا: کیا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

  • کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے درخواست کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے تحقیقاتی حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

وندے ماترم نہ گانا کیا جرم ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب مانگا

  • وندے ماترم کے تمام 6 اشعار گانے کو لازمی قرار دینے اور اسے نہ گانے پر سزا کے امکان سے متعلق دائر کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں بنیادی حقوق اور سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
BY SHIRIN ·