*لکھنؤ:* اتر پردیش اسمبلی کا مانسون اجلاس پیر کے روز سیاسی کشیدگی کے ماحول میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز سے قبل سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے ارکان اسمبلی نے اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور مختلف عوامی مسائل پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما بینر اور پوسٹر لے کر اسمبلی پہنچے۔ بعض کارکن علامتی احتجاج کے طور پر چندہ پیٹیاں بھی ساتھ لائے، جبکہ رہنما زاہد بیگ سائیکل پر اسمبلی پہنچے اور رام مندر چندہ اور E20 پٹرول کے معاملے پر حکومت سے سوالات کیے۔
اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت عوام سے جڑے اہم مسائل پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ نیٹ پیپر لیک، کسانوں کی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے معاملات کو بھی احتجاج کا حصہ بنایا گیا۔
اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تمام ارکان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ جمہوریت میں بات چیت اور مباحثہ سب سے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں حکومت نے ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سماج وادی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور حکومت میں گنا کسانوں کو بقایا ادائیگیوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے اپوزیشن کے ایودھیا سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کیا۔
اجلاس کے پہلے دن سماج وادی پارٹی کے سینئر رکن اسمبلی عالمبادی کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور کی گئی، جس کے بعد اسمبلی کی کارروائی منگل صبح تک ملتوی کر دی گئی، جبکہ قانون ساز کونسل کی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔
چار روزہ مانسون اجلاس کے دوران قانون و نظم، تعلیم، روزگار، کسانوں کے مسائل، صحت، بجلی اور مختلف بلوں پر تفصیلی بحث ہونے کی توقع ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول مزید گرم رہ سکتا ہے۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)





.webp)


