تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
اینٹی پیپر لیک بل پر راگھو چڈھا کا بڑا بیان، کہا یہ میرٹ اور مافیا کی جنگ ہے


راجیہ سبھا میں عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 پر بحث کے دوران رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے اس بل کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے ملک کے لاکھوں طلبہ امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ قانون صرف ایک قانونی ترمیم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کا پہلا ایسا جامع قانونی فریم ورک ہے جو منظم انداز میں ہونے والے پیپر لیک کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چند منظم گروہ اور مافیا برسوں سے محنتی طلبہ کے خوابوں کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں، لیکن اب اس قانون کے ذریعے ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہوگی۔

راگھو چڈھا نے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں بلکہ "میرٹ اور مافیا" کے درمیان جنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کروڑوں نوجوان اپنی صلاحیت اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر پیپر لیک جیسے واقعات ان کی برسوں کی محنت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ اس لیے امتحانی نظام میں شفافیت، انصاف اور اعتماد کو برقرار رکھنا تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک کے باعث امتحانات منسوخ یا ملتوی کرنا پڑتے ہیں جس سے امیدواروں کا وقت، پیسہ اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس قانون کا مقصد صرف مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ ایسے جرائم کو پہلے ہی روکنے کے لیے مضبوط نظام قائم کرنا بھی ہے۔

اپنی تقریر کے دوران انہوں نے طلبہ کی تحریکوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اپنے مستقبل اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے، تاہم ان تحریکوں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق طلبہ کے مسائل کا حل بات چیت، اصلاحات اور مؤثر قانون سازی کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا قانون عوامی امتحانات کو مزید شفاف، محفوظ اور جوابدہ بنائے گا اور محنتی امیدواروں کا اعتماد بحال کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ طلبہ کے مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس قانون کے مؤثر نفاذ میں تعاون کریں۔

News Image

1. راہل گاندھی کی جائیداد کے معاملے میں چیف جسٹس کی سرزنش، پوچھا: کیا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

  • کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے درخواست کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے تحقیقاتی حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

وندے ماترم نہ گانا کیا جرم ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب مانگا

  • وندے ماترم کے تمام 6 اشعار گانے کو لازمی قرار دینے اور اسے نہ گانے پر سزا کے امکان سے متعلق دائر کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں بنیادی حقوق اور سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
BY SHIRIN ·