پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران آج لوک سبھا میں کئی اہم قانون سازی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔ سب سے اہم موضوع *پبلک ایگزامینیشنز (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026* ہوگا، جس کا مقصد مقابلہ جاتی امتحانات میں پیپر لیک، نقل اور دیگر بے ضابطگیوں پر سخت روک لگانا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ اس ترمیمی بل کو ایوان میں پیش کرتے ہوئے اس پر غور اور منظوری کی درخواست کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی اس بل پر اپنی جماعت کا مؤقف پیش کر سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ امتحانی نظام، طلبہ کے مفادات، پیپر لیک کے واقعات اور حکومتی اقدامات پر تفصیلی اظہارِ خیال کریں گے۔
منگل کو اس بل پر تقریباً نو گھنٹے تک بحث ہوئی، جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ حکومت نے کہا کہ یہ ترمیم امتحانی نظام کو زیادہ شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن نے مختلف تجاویز اور اعتراضات بھی سامنے رکھے۔
حکومت کے مطابق یہ ترمیم 2024 کے قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لائی گئی ہے تاکہ منظم پیپر لیک نیٹ ورکس اور امتحانی دھوکہ دہی کے خلاف سخت قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔
بحث مکمل ہونے کے بعد آج اس بل پر ووٹنگ بھی کرائی جا سکتی ہے۔ اگر لوک سبھا سے منظوری مل جاتی ہے تو اسے مزید کارروائی کے لیے راجیہ سبھا بھیجا جائے گا۔
اس کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ *برتھ اینڈ ڈیتھ رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2026* پیش کریں گے، جبکہ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق ترمیمی بل بھی ایوان میں پیش کریں گے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے جاری ہے، تاہم پیپر لیک اور طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث کئی دن تک کارروائی متاثر رہی۔ بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بعد پیپر لیک ترمیمی بل پر بحث شروع کرنے پر اتفاق ہوا۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)





.webp)


