بہار کے بانکی پور، مدھیہ پردیش کے دتیہ اور گجرات کے مانجل پور اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح سے سخت سیکیورٹی کے درمیان جاری ہے۔ ان تینوں نشستوں پر 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی، جبکہ آج مرحلہ وار ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔
ان تینوں حلقوں میں سب سے زیادہ توجہ بہار کے بانکی پور اور مدھیہ پردیش کے دتیہ پر مرکوز ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بڑی سیاسی جماعتوں نے ان نشستوں پر بھرپور زور لگایا تھا، اسی وجہ سے پورے ملک کی نظریں ان نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔
ابتدائی مرحلے کی گنتی کے مطابق بانکی پور میں جن سوراج کے بانی پرشانت کشور 862 ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے چل رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نشست کا نتیجہ بہار کی سیاست پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب مدھیہ پردیش کی دتیہ اسمبلی نشست پر بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدائی رجحانات میں آگے ہے۔ گجرات کی مانجل پور اسمبلی نشست پر بھی بی جے پی نے شروعاتی برتری حاصل کی ہے۔ تاہم ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے اور آنے والے مرحلوں میں نتائج تبدیل ہو سکتے ہیں۔
تمام مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹوں کی گنتی شفاف اور پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔ ہر مرحلے کے بعد تازہ اعداد و شمار جاری کیے جا رہے ہیں اور انتخابی حکام پورے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان تینوں ضمنی انتخابات کے نتائج بہار، مدھیہ پردیش اور گجرات کی آئندہ سیاست پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ خاص طور پر بانکی پور میں پرشانت کشور کی کارکردگی پر تمام سیاسی جماعتوں کی گہری نظر ہے، جبکہ بی جے پی دتیہ اور مانجل پور میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دن بھر جاری رہنے والی گنتی کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے، جن سے یہ واضح ہو جائے گا کہ تینوں اسمبلی نشستوں پر کس جماعت نے کامیابی حاصل




.jpeg)

.jpg)
.jpg)





.webp)


