نئی دہلی۔ اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے کی ریلی کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے ’شدھی کرن‘ کے عمل پر سیاسی تنازع اب پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ہے۔
راجیہ سبھا میں اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے مبینہ واقعے کو اپنے لیے توہین آمیز قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا کسی جمہوری اور آئینی ملک میں کسی منتخب عوامی نمائندے کے پروگرام کے بعد اس طرح کا برتاؤ مناسب ہے۔
یہ معاملہ 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ کانگریس کی عوامی ریلی کے بعد کا بتایا جا رہا ہے۔ کھڑگے کے مطابق انہوں نے ریلی میں حکومت سے متعلق مسائل اٹھائے تھے اور اپنی تقریر کے دوران کسی مخصوص مذہب یا برادری کا نام نہیں لیا تھا۔
کھڑگے نے کہا کہ اس کے باوجود ان کی تقریر کے بعد مبینہ طور پر اسٹیج کے ’شدھی کرن‘ کے لیے ہون کیا گیا۔
راجیہ سبھا میں معاملہ اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تقریر کسی مذہب یا برادری کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ حکومت سے متعلق مسائل کو سامنے رکھنے کے لیے تھی۔
کھڑگے نے اپنی سماجی شناخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ درج فہرست ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی طویل سیاسی زندگی میں انہوں نے کبھی کسی سے اپنی حفاظت یا مدد کی درخواست نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اندر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی طاقت ہے اور وہ ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
کھڑگے نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوئی کہ ان کی ریلی کے بعد مبینہ طور پر ’شدھی کرن‘ کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جمہوری معاشرے میں اس طرح کے عمل کو کس طرح مناسب قرار دیا جا سکتا ہے۔
کھڑگے نے آئینی مساوات کا سوال اٹھایا
کھڑگے نے معاملے کو صرف سیاسی تنازع کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے آئینی اقدار، مساوات اور انسانی وقار سے جوڑنے کی کوشش کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی منتخب نمائندے کے ساتھ اس کی سماجی شناخت کی بنیاد پر اس طرح کا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔
ان کے بیان کے بعد ذات، سماجی مساوات اور عوامی نمائندوں کے احترام سے متعلق بحث بھی تیز ہو گئی۔
جے پی نڈا نے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی
راجیہ سبھا میں کھڑگے کے سوال کا جواب ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے دیا۔
نڈا نے مبینہ واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اگر ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو یہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے تشویش کی بات ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔
نڈا نے کہا کہ واقعے کی مناسب سطح پر جانچ کی جائے گی اور اس کے حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
نڈا کی یقین دہانی کے بعد اب سب کی توجہ اس بات پر ہے کہ تحقیقات میں اس واقعے کے بارے میں کیا حقیقت سامنے آتی ہے۔
کانگریس نے مساوات کا معاملہ اٹھایا
کانگریس کی سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجا نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف آئینی اقدار، مساوات اور قومی اتحاد کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک اپوزیشن لیڈر کی ریلی کے بعد مبینہ طور پر ’شدھی کرن‘ جیسا عمل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین تمام شہریوں کو مساوات اور عزت کا حق دیتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی شخص کے ساتھ اس کی ذات یا سماجی شناخت کی بنیاد پر مختلف برتاؤ کیا گیا ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔
شیلجا نے اتراکھنڈ حکومت اور مقامی انتظامیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔
سیاسی تنازع سے آگے بڑھتا معاملہ
ہلدوانی کا یہ معاملہ صرف سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہا۔ اس نے ذات، سماجی مساوات، مذہبی رسومات اور جمہوری اقدار سے متعلق وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔
بھارتی آئین تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے۔ اسی وجہ سے کسی عوامی پروگرام کے بعد مبینہ ’شدھی کرن‘ جیسے عمل کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تاہم واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
یہ معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ ریلی کے بعد اصل میں کیا ہوا، مبینہ رسم کس نے منعقد کی، اس کا مقصد کیا تھا اور اس میں کسی سیاسی یا سماجی تنظیم کا کردار تھا یا نہیں۔
تحقیقات اس لیے بھی اہم ہیں تاکہ سیاسی بیانات سے الگ واقعے کے اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
کھڑگے کے بیان کا مقصد
راجیہ سبھا میں کھڑگے کے بیان سے یہ ظاہر ہوا کہ وہ معاملے کو محض سیاسی مخالفت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی وقار اور مساوات کے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی طویل سیاسی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی کی ہمدردی یا خصوصی تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی شخص کے ساتھ اس کی سماجی شناخت کی بنیاد پر اس طرح کا سلوک کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے بھی اس معاملے کو آئینی مساوات کے اصول سے جوڑتے ہوئے حکومت سے واضح جواب اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اب نظریں تحقیقات پر
جے پی نڈا کی جانب سے تحقیقات کی یقین دہانی کے بعد اب اس معاملے میں اگلی کارروائی اہم ہوگی۔
تحقیقات سے یہ واضح ہو سکتا ہے کہ ہلدوانی میں ریلی کے بعد اصل میں کیا ہوا، مبینہ ’شدھی کرن‘ کس نے کیا اور اس کا مقصد کیا تھا۔
فی الحال یہ معاملہ پارلیمنٹ میں ایک اہم سیاسی اور سماجی موضوع بن چکا ہے۔ اپوزیشن اسے سماجی امتیاز اور آئینی اقدار سے جوڑ رہی ہے، جبکہ حکومت نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔
یہ تنازع ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو سامنے لاتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عوامی زندگی میں انسانی وقار، مساوات اور آئینی اقدار کا احترام کس طرح یقینی بنایا جائے۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)




.webp)


