کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں تین کم عمر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ایک نابالغ بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی تحقیقات شروع کر دی گئی تھیں۔ ابتدائی شواہد، عینی گواہوں کے بیانات اور دیگر معلومات کی بنیاد پر تینوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر زاویے سے جانچ کی جا رہی ہے۔
متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے ملزمان کے لیے سخت ترین سزا، یعنی سزائے موت، کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اس سنگین جرم کے مرتکب افراد کو ایسی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اس قسم کے جرم کی ہمت نہ کر سکے۔
واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے بھی احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ مظاہرین نے کہا کہ تیز رفتار اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ جلد از جلد مقدمے کا فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
پولیس حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد اور دیگر سائنسی تحقیقات کو مقدمے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ تمام شواہد جمع ہونے کے بعد چارج شیٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین اور بچوں کی سلامتی سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف سماجی تنظیموں اور شہریوں نے اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین اور کمسن بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر مؤثر روک لگائی جائے۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)




.webp)


