اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو 24 ستمبر 2026 کو رائے بریلی سے پی ڈی اے رتھ کے اپنے انتخابی پروگرام کو آگے بڑھانے جا رہے ہیں۔ اعلان کردہ پروگرام کے مطابق وہ رائے بریلی کی سرحد کے قریب چوروا سے پی ڈی اے رتھ پر سوار ہوں گے اور اس کے بعد ضلع میں رکن اسمبلی راہل لودھی کی رہائش گاہ پہنچیں گے۔ اس دورے کو سماجوادی پارٹی کی انتخابی تیاریوں اور عوامی رابطہ مہم سے جوڑا جا رہا ہے۔
اسی دوران بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے سماجوادی پارٹی اور اکھلیش یادو کی پی ڈی اے حکمت عملی پر سوال اٹھائے ہیں۔ مایاوتی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں پی ڈی اے رتھ کے رنگ کو خاص طور پر موضوع بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رتھ سماجوادی پارٹی کے روایتی سرخ رنگ کے مقابلے میں زیادہ بھگوا نظر آتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا انتخابی حکمت عملی کے تحت پارٹی اپنی سیاسی علامتوں اور شناخت میں تبدیلی کر رہی ہے۔ یہ تمام باتیں مایاوتی کے سیاسی موقف اور الزامات کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
مایاوتی نے اپنے بیان میں مسلم ووٹروں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی کے انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی حمایت کرنے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو روکنے کے معاملے پر مسلم سماج کے ایک حصے میں سیاسی سوچ تبدیل ہو رہی ہے۔ مایاوتی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسلم سماج کے کچھ لوگ اور ہندو سماج کے اونچی ذات کے طبقے، خاص طور پر برہمن، بہوجن سماج پارٹی کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ تاہم دستیاب رپورٹوں میں اس دعوے کی آزادانہ طور پر کوئی الگ تصدیق موجود نہیں ہے۔
بسپا سربراہ نے سماجوادی پارٹی کے پی ڈی اے کی سیاسی تشریح پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ پی ڈی اے کی اصل سیاسی حیثیت کیا ہے۔ مایاوتی نے الزام لگایا کہ مختلف سیاسی حالات میں اس اصطلاح کی الگ الگ تشریح کی گئی۔ انہوں نے پسماندہ اور دلت طبقات کے حوالے کے ساتھ ساتھ ’پی‘ کو پنڈت کے طور پر پیش کیے جانے پر بھی سوال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکھلیش یادو کے نیلے لباس اور نیلے گمچھے کے استعمال کو بھی بسپا کی سیاسی اور امبیڈکری علامتوں سے جوڑتے ہوئے تنقید کی۔
اتر پردیش کی سیاست میں سیاسی رنگ، لباس اور انتخابی علامتیں اکثر بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنتی رہی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کی پی ڈی اے حکمت عملی میں پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں کو سیاسی اتحاد کے اہم حصے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اکھلیش یادو کی جانب سے برہمن سماج تک رسائی اور نیلے رنگ کے استعمال نے بھی سیاسی بحث کو تیز کیا ہے۔ دوسری جانب مایاوتی مسلسل یہ واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ نیلا رنگ اور امبیڈکری سیاسی شناخت بسپا کی روایتی پہچان کا اہم حصہ ہیں۔
مایاوتی نے اپنے بیان میں بسپا کی پالیسی اور اپنی حکومتوں کے کام کاج کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی تمام طبقات کے مفاد، روزگار، عزت، خودداری، عوامی فلاح اور ترقی کی سیاست کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی سابقہ حکومتوں کے دوران قانون و انتظام اور ترقی کے معاملات کو بھی اپنی سیاسی کارکردگی کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ اسی نوعیت کی حکمرانی کی دوبارہ ضرورت ہے۔ یہ نکات مایاوتی کے اپنے سیاسی دعوے اور موقف ہیں۔
دوسری طرف اکھلیش یادو 24 ستمبر کو رائے بریلی میں پی ڈی اے رتھ کے ذریعے اپنے سیاسی اور تنظیمی پروگرام کو آگے بڑھائیں گے۔ پروگرام کے مطابق وہ چوروا سے رتھ پر سوار ہوں گے اور رائے بریلی شہر میں پہنچ کر مقامی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے سماجوادی پارٹی کی ابتدائی عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے۔
اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتیں سماجی اتحاد، ذات پات کے سیاسی رجحانات، اقلیتی ووٹ، دلت نمائندگی اور مختلف طبقات تک رسائی کے لیے اپنی حکمت عملی پر توجہ دے رہی ہیں۔ مایاوتی کا تازہ بیان سماجوادی پارٹی کی پی ڈی اے حکمت عملی پر ان کی سیاسی تنقید کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اکھلیش یادو کا پی ڈی اے رتھ اسی حکمت عملی کو عوام کے درمیان لے جانے کی کوشش کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اتر پردیش کی سیاست میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی پیغام، سماجی اتحاد اور ووٹر رابطے کو لے کر مقابلہ مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔
میٹا ہیڈ لائن: مایاوتی کا اکھلیش یادو پر حملہ، پی ڈی اے رتھ پر سوال
میٹا ڈسکرپشن: اتر پردیش کے 2027 کے انتخابات سے پہلے مایاوتی نے اکھلیش یادو کے پی ڈی اے رتھ، بھگوا رنگ، نیلے گمچھے اور پی ڈی اے حکمت عملی پر سوال اٹھائے۔ مکمل خبر پڑھیں۔
میٹا کی ورڈز: مایاوتی، اکھلیش یادو، پی ڈی اے رتھ، اتر پردیش انتخابات 2027، سماجوادی پارٹی، بسپا، مسلم ووٹ، نیلا گمچھا، بھگوا رتھ، پی ڈی اے حکمت عملی، رائے بریلی






.jpg)
.jpg)







.webp)
