مدراس ہائی کورٹ نے انتخابات کے فوراً بعد ارکان اسمبلی کے استعفے دینے اور پھر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہو کر اسی حلقے سے ضمنی انتخاب لڑنے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی حلقوں میں 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے متعلق ہے۔ ان دونوں حلقوں میں ضمنی انتخاب کی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اے آئی اے ڈی ایم کے کے دو ارکان اسمبلی نے اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
استعفیٰ دینے کے بعد دونوں ارکان اسمبلی ٹی وی کے میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد ٹی وی کے نے دونوں کو انہی اسمبلی حلقوں سے ضمنی انتخاب کے لیے اپنا امیدوار بنایا۔
اسی معاملے کو لے کر ایک مفادِ عامہ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کو روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔
درخواست پر سماعت مدراس ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے کی۔ بینچ میں جسٹس ایس ایم سبرامنیم اور جسٹس کے گووندراجن شامل تھے۔ سماعت کے دوران عدالت نے انتخابات کے فوراً بعد منتخب ارکان اسمبلی کے استعفے دینے اور پھر کسی دوسری جماعت کے انتخابی نشان پر دوبارہ انتخاب لڑنے کے معاملے پر اپنی تشویش ظاہر کی۔
عدالت کے سامنے بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص عوام کے ووٹ سے کسی اسمبلی حلقے سے منتخب ہوتا ہے اور کچھ ہی عرصے بعد اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیتا ہے، تو اس کے بعد اسی حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس صورتحال میں ووٹروں کو ایک مرتبہ پھر پولنگ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے عدالت نے انتخابات کے فوراً بعد استعفیٰ دینے اور پھر دوسری جماعت کے ٹکٹ پر اسی حلقے سے انتخاب لڑنے کے معاملے کو اہم مسئلہ قرار دیا۔
اس معاملے میں دونوں ارکان اسمبلی نے پہلے اے آئی اے ڈی ایم کے سے استعفیٰ دیا اور بعد میں ٹی وی کے میں شامل ہوئے۔ اب انہیں انہی حلقوں سے ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار بنایا گیا ہے۔
مفادِ عامہ کی درخواست میں ان ضمنی انتخابات کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے کی گئی تشویش اور کسی حتمی فیصلے کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ عدالت کی حتمی کارروائی اور فیصلہ اس معاملے میں آگے کی صورتحال واضح کرے گا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ایک رکن اسمبلی کو کسی مخصوص حلقے کے عوام ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں۔ اگر منتخب ہونے کے فوراً بعد وہ اپنی نشست چھوڑ دیتا ہے تو اسی حلقے میں دوبارہ انتخاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
مدورانتکم اور دھاراپورم کے معاملے میں بھی اسی وجہ سے ضمنی انتخابات کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ اب عدالت میں دائر مفادِ عامہ کی درخواست پر ہونے والی مزید سماعت اور عدالت کے فیصلے پر توجہ رہے گی۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
