تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جَنتر منتر تنازع: راہل گاندھی اور کیجریوال نے سی جے پی رہنماؤں کی عدالتی تحویل پر سوال اٹھائے


*نئی دہلی:* دہلی کے جَنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملے میں سی جے پی کے رہنماؤں سورَو داس اور آشو توش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اس کارروائی پر تنقید کی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ پُرامن احتجاج کے دوران قومی پرچم لہرانا جرم نہیں ہونا چاہیے، جبکہ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ کیا اپنے ہی ملک میں ترنگا لہرانے پر کسی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے؟

دوسری جانب، پولیس ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے خلاف کارروائی صرف قومی پرچم لہرانے کے معاملے تک محدود نہیں تھی۔ پولیس نے غیر مجاز داخلے، امتناعی احکامات کی خلاف ورزی، امن برقرار رکھنے کے بانڈ کی مبینہ خلاف ورزی اور سرکاری ملازم کو اس کے فرائض کی انجام دہی سے روکنے جیسے الزامات کا ذکر کیا ہے۔

 راہل گاندھی نے عدالتی تحویل کی مذمت کی

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سورَو داس اور آشو توش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کی مذمت کی۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جَنتر منتر پر پُرامن احتجاج کے دوران ترنگا لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔

راہل گاندھی نے نوجوانوں کو اس معاملے میں جیل بھیجے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے شہریوں کے آئینی حقوق کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، طلبہ، نوجوان، صحافی اور اپوزیشن جماعتیں الگ الگ پلیٹ فارم اور بینر استعمال کر سکتی ہیں، لیکن ان کے احتجاج کا مقصد شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرنا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے جَنتر منتر کو ہندوستان کے عوام کا مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد دارالحکومت میں احتجاج کے لیے مخصوص مقامات اور شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

راہل گاندھی کے بیان میں احتجاج کے حق پر زور دیا گیا، جبکہ پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے الزامات میں اجازت کے بغیر داخلے اور امن برقرار رکھنے سے متعلق شرائط کی مبینہ خلاف ورزی بھی شامل ہے۔ اس لیے معاملے کی مکمل صورت حال جاننے کے لیے تمام متعلقہ پہلوؤں کو دیکھنا ضروری ہے۔

 اروند کیجریوال نے بھی پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی دونوں رہنماؤں کی عدالتی تحویل پر تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ کیا اپنے ہی ملک میں قومی پرچم لہرانا جرم ہے؟ انہوں نے اس صورت حال کو غیر معقول قرار دیا۔

کیجریوال کے بیان سے اس معاملے پر اپوزیشن کی تنقید میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ قومی پرچم لہرانے اور پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق تھا۔

تاہم، پولیس کے مطابق، اس معاملے میں کارروائی کے دیگر اسباب بھی بتائے گئے ہیں، جن میں غیر مجاز داخلہ اور امن برقرار رکھنے کے بانڈ کی مبینہ خلاف ورزی شامل ہے۔ ان الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔ عدالتی تحویل میں بھیجا جانا بذات خود کسی ملزم کے قصوروار ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔

سورَو داس اور آشو توش رانکا پانچ دن کی عدالتی تحویل میں

پولیس ذرائع کے مطابق، سورَو داس اور آشو توش رانکا کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، دونوں کو تہاڑ جیل منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس کا الزام ہے کہ دونوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے بانڈ کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور جَنتر منتر میں غیر مجاز طور پر داخل ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ہفتے کے روز ایک احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے بعد دونوں نے ایک سال تک امن برقرار رکھنے سے متعلق بانڈ پر دستخط کیے تھے۔

اس معاملے میں غیر مجاز داخلے، امتناعی احکامات کی خلاف ورزی، امن برقرار رکھنے کے بانڈ کی مبینہ خلاف ورزی اور سرکاری ملازم کو سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکنے جیسے الزامات شامل بتائے گئے ہیں۔

ان الزامات کو حتمی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ معاملے کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت میں ہونے والی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگا۔

جَنتر منتر کو احتجاجی مقام کی حیثیت سے ہٹایا گیا

اس تنازع کی ایک اہم وجہ جَنتر منتر کو احتجاج کے لیے مخصوص مقام کی حیثیت سے ہٹانے کا فیصلہ بھی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، حکام نے پیر کے روز اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد جَنتر منتر کی احتجاجی مقام کے طور پر منظوری ختم کر دی گئی۔

احتجاج اور ریلیوں کے لیے متبادل مقامات کے طور پر رام لیلا میدان، بُراری میدان اور مشرقی دہلی میں سی بی ڈی میدان کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، وزارت داخلہ نے ایسے متبادل مقامات کی نشاندہی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جہاں شہری احتجاج کے اپنے حق کا استعمال کر سکیں۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر جَنتر منتر کی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس فیصلے کے بعد دارالحکومت میں احتجاج کے لیے دستیاب مقامات اور ان پر لاگو قواعد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف انتظامیہ عوامی نظم و ضبط اور سلامتی کو اہم قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اور احتجاج کرنے والے گروہ پُرامن احتجاج کے لیے مناسب جگہوں کی دستیابی پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے حکومت پر تنقید کی

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی اس معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور سورَو داس اور آشو توش رانکا کی عدالتی تحویل پر سوال اٹھائے۔

دیپکے نے دعویٰ کیا کہ دونوں کو جَنتر منتر پر ترنگا لہرانے کے معاملے میں عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے مخاطب اپنے سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اختلاف رائے کو دبانا چاہتی ہے تو اسے ہنگامی حالت کے باضابطہ اعلان کی ہمت دکھانی چاہیے۔

یہ بیان دیپکے کی سیاسی تنقید ہے۔ اسے حکومت کی جانب سے ہنگامی حالت کے کسی سرکاری اعلان یا فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

 

ایس آئی آر سے متعلق احتجاج بھی زیر بحث

اس واقعے کے پس منظر میں خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق احتجاج بھی زیر بحث ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، سی جے پی اور دیگر تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی احتجاج کیے ہیں۔

ان مظاہروں اور اس کے بعد ہونے والی پولیس کارروائی کے باعث دہلی میں سکیورٹی انتظامات، احتجاج کی اجازت اور عوامی مقامات کے استعمال سے متعلق بحث میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، ایس آئی آر سے متعلق الزامات اور جَنتر منتر پر پولیس کارروائی کے درمیان کسی براہ راست قانونی تعلق کی تصدیق کے لیے متعلقہ دستاویزات اور سرکاری بیانات کا جائزہ ضروری ہے۔

احتجاج کے حق اور عوامی نظم و ضبط پر بحث تیز

سورَو داس اور آشو توش رانکا کی عدالتی تحویل کا معاملہ اب صرف دو رہنماؤں کی گرفتاری تک محدود نہیں رہا، بلکہ پُرامن احتجاج، قومی پرچم، انتظامی پابندیوں اور شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

راہل گاندھی اور اروند کیجریوال نے کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے احتجاج کے حق پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب، پولیس ذرائع نے قانونی پابندیوں اور امن برقرار رکھنے کے بانڈ کی مبینہ خلاف ورزی کو کارروائی کی وجہ بتایا ہے۔

فی الحال، دونوں رہنماؤں کی پانچ روزہ عدالتی تحویل اور جَنتر منتر پر احتجاجی مقام کی منظوری ختم کیے جانے کے معاملے پر سیاسی ردعمل جاری ہے۔ مزید صورت حال عدالت کی کارروائی، متعلقہ احکامات اور انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی سرکاری معلومات کے بعد واضح ہوگی۔

News Image

1. راہل گاندھی کی جائیداد کے معاملے میں چیف جسٹس کی سرزنش، پوچھا: کیا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

  • کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے درخواست کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے تحقیقاتی حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

وندے ماترم نہ گانا کیا جرم ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب مانگا

  • وندے ماترم کے تمام 6 اشعار گانے کو لازمی قرار دینے اور اسے نہ گانے پر سزا کے امکان سے متعلق دائر کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں بنیادی حقوق اور سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
BY SHIRIN ·