مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے اندر جاری تنظیمی تنازع اب الیکشن کمیشن کے سامنے ایک اہم مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے پارٹی کے دونوں مخالف گروپوں کو *آل انڈیا ترنمول کانگریس کے نام اور محفوظ ‘پھول اور گھاس’ انتخابی نشان* کے استعمال سے روک دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں گروپوں نے پارٹی پر کنٹرول اور اس کی اصل سیاسی شناخت پر اپنے اپنے دعوے پیش کیے۔ حتمی فیصلہ آنے تک کسی بھی گروپ کو اصل پارٹی نام اور محفوظ انتخابی نشان استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے نام اور نشان کیوں منجمد کیا؟
الیکشن کمیشن کے سامنے ترنمول کانگریس کے کنٹرول کو لے کر دو مخالف گروپوں کے دعوے پیش ہوئے ہیں۔ دونوں فریق خود کو پارٹی کا حقیقی نمائندہ قرار دیتے ہوئے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر اپنا حق جتا رہے ہیں۔
کمیشن نے اس معاملے کو الیکشن سمبلز آرڈر 1968 کے پیراگراف 15 کے تحت قابلِ غور قرار دیا ہے۔ حتمی فیصلہ ہونے تک دونوں فریقوں کو برابر کی صورتحال میں رکھنے کے لیے کمیشن نے پارٹی کے اصل نام اور محفوظ انتخابی نشان کے استعمال پر عبوری پابندی عائد کی ہے۔
دونوں گروپوں کو نئے نام اور نشان دینے ہوں گے
الیکشن کمیشن کی عبوری ہدایت کے مطابق دونوں گروپوں کو اپنی پسند کے تین نام اور تین انتخابی نشان کے متبادل پیش کرنے ہوں گے۔ انتخابی نشان کے لیے کمیشن کی جانب سے دستیاب فری سمبلز کی فہرست میں سے انتخاب کیا جائے گا۔
اس کے بعد کمیشن ہر گروپ کے لیے ایک نام اور ایک انتخابی نشان مختص کرے گا۔ یہ انتظام آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے ہوگا اور پارٹی کے اصل نام اور انتخابی نشان کے تنازع پر حتمی فیصلہ ہونے تک عبوری طور پر برقرار رہ سکتا ہے۔
ممتا بنرجی گروپ نے سخت اعتراض درج کرایا
الیکشن کمیشن کے عبوری حکم پر ممتا بنرجی کے گروپ نے سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق گروپ نے مقررہ وقت کے اندر اپنا جواب جمع کراتے ہوئے اپنی پسند کے تین نام اور انتخابی نشان کے متبادل بھی پیش کیے ہیں۔
تاہم متبادل نام اور نشان دینا کمیشن کے عبوری حکم کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ ممتا گروپ نے انتخابی ضرورت کے تحت متبادل تجاویز پیش کرنے کے ساتھ اپنے اعتراضات بھی درج کرائے ہیں۔
ضمنی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا؟
الیکشن کمیشن کے حکم کا براہ راست اثر مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ اسمبلی ضمنی انتخابات پر پڑے گا۔ دونوں مخالف گروپوں نے انتخابات کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں، لیکن اب انہیں کمیشن کی جانب سے مختص کیے جانے والے الگ نام اور انتخابی نشان کے تحت انتخاب لڑنا ہوگا۔
جب تک تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا، دونوں گروپ اصل ٹی ایم سی نام اور محفوظ ‘پھول اور گھاس’ انتخابی نشان استعمال نہیں کرسکیں گے۔
تنازع الیکشن کمیشن تک کیسے پہنچا؟
ترنمول کانگریس کے اندر تنظیمی کنٹرول اور پارٹی کی قیادت کو لے کر اختلافات کے بعد دونوں فریقوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے اپنے دعوے پیش کیے۔
کارروائی کے دوران کمیشن نے دونوں گروپوں سے تنظیمی ڈھانچے، مجاز عہدیداروں، دستخط کنندگان، پارٹی کی املاک، نام اور انتخابی نشان سمیت کئی معاملات پر دستاویزات اور وضاحتیں طلب کیں۔
دونوں فریقوں نے کمیشن کے سامنے اپنے دلائل اور دستاویزات پیش کیے۔ سماعت کے بعد کمیشن نے عبوری انتظام کے تحت دونوں گروپوں کو اصل نام اور انتخابی نشان استعمال کرنے سے روک دیا۔
حتمی فیصلہ ابھی باقی
اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا موجودہ حکم حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ پارٹی کا اصل نام اور محفوظ انتخابی نشان کس گروپ کے پاس رہے گا، اس بارے میں حتمی فیصلہ مزید کارروائی، دستاویزات اور دونوں فریقوں کے دعوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
عبوری انتظام کا مقصد آئندہ انتخابی عمل کے دوران دونوں گروپوں کو ایک ہی نام اور نشان استعمال کرنے سے روکنا اور ووٹروں کے درمیان ممکنہ الجھن کو کم کرنا ہے۔
ممتا گروپ کے لیے کیا بدلے گا؟
اگر ضمنی انتخابات تک عبوری انتظام برقرار رہتا ہے تو ممتا بنرجی کی قیادت والے گروپ کو اپنے امیدواروں کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے مختص کیے گئے نئے نام اور انتخابی نشان کا استعمال کرنا ہوگا۔
سیاسی جماعت کا نام اور انتخابی نشان ووٹروں کے لیے پارٹی کی شناخت کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں نئے نام اور نشان کے ساتھ انتخاب لڑنا دونوں گروپوں کے لیے ایک مختلف انتخابی صورتحال پیدا کرے گا۔ تاہم اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے، اس کا تعین انتخابی عمل اور بعد کی صورتحال سے ہوگا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اب معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے جاری کارروائی پر منحصر ہے۔ کمیشن دونوں فریقوں کی جانب سے پیش کیے گئے تنظیمی دعوؤں، دستاویزات اور دلائل کا جائزہ لے گا، جس کے بعد پارٹی کے نام اور محفوظ انتخابی نشان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
فی الحال ضمنی انتخابات کے لیے دونوں گروپوں کو الگ نام اور انتخابی نشان کے ساتھ تیاری کرنا ہوگی۔ ممتا گروپ نے اپنے اعتراض کے ساتھ تین متبادل نام اور نشان کمیشن کو پیش کردیئے ہیں۔
اس طرح ترنمول کانگریس کا اندرونی تنازع اب باقاعدہ انتخابی شناخت کے معاملے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک پارٹی کے اصل نام اور انتخابی نشان کا استعمال الیکشن کمیشن کے عبوری حکم کے دائرے میں رہے گا۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
