تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ٹائیگر شروف فائرنگ کیس میں یوپی کنکشن، دو خواتین سمیت چار ملزمان گرفتار

ٹائیگر شروف فائرنگ کیس کی تحقیقات اتر پردیش تک پہنچیں

ممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں تحقیقات کے دوران مبینہ اسلحہ سپلائی نیٹ ورک سے متعلق اہم معلومات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس اس معاملے میں اسلحے کی خریداری، اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے اور مبینہ طور پر اس کارروائی میں شامل افراد کے کردار کی جانچ کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق، دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کی این ڈی آر ٹیم نے اس معاملے میں چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد میں اتر پردیش کے سیتاپور سے تعلق رکھنے والی رادھا اور اعظم گڑھ کی رہنے والی ببیتا بھی شامل ہیں۔ تفتیشی حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان دونوں خواتین کا مبینہ اسلحہ سپلائی نیٹ ورک میں کیا کردار تھا اور انہیں اس سرگرمی میں کس طرح شامل کیا گیا۔

تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلحہ کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے ممبئی تک پہنچانے میں کن لوگوں نے مدد کی اور کیا اس پورے عمل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس نیٹ ورک میں مزید افراد شامل تھے یا نہیں

سونی پت کے کنال پر پستول اور کارتوس حاصل کرنے کا الزام

پولیس کے مطابق، ہریانہ کے سونی پت کے رہنے والے کنال نے امرتسر سے ایک پستول اور 20 کارتوس حاصل کیے تھے۔ الزام ہے کہ اس کے بعد اسلحے کو ممبئی پہنچانے کے لیے سیتاپور کی رادھا اور اعظم گڑھ کی ببیتا کی مدد لی گئی۔

تفتیشی ایجنسیاں اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اسلحہ کس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور اسے ممبئی میں کس شخص کے حوالے کیا جانا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ دونوں خواتین کو اسلحے کی نوعیت اور اس کے ممکنہ استعمال کے بارے میں معلومات تھیں یا نہیں۔

پولیس اس مبینہ سپلائی چین کی تمام کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسلحہ حاصل کرنے سے لے کر اسے ممبئی پہنچانے تک کن افراد نے کیا کردار ادا کیا۔ تاہم، گرفتار ملزمان کے کردار اور ان پر عائد الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی ہو سکے گی۔

*انکرپٹڈ ایپ کے ذریعے رابطے کا دعویٰ*

پولیس کے مطابق، کنال مبینہ طور پر انکرپٹڈ میسجنگ ایپ کے ذریعے انیل پنڈت کے رابطے میں تھا۔ الزام ہے کہ کنال انیل پنڈت کی ہدایات پر کام کر رہا تھا۔ تفتیشی حکام اب دونوں کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو اور اس کے مقصد کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحقیقات میں یہ معلوم کرنا بھی اہم ہے کہ آیا ان کے درمیان ہونے والا رابطہ اسلحے کی خریداری اور اسے ممبئی پہنچانے سے متعلق تھا یا اس معاملے میں کسی اور قسم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔ پولیس مبینہ طور پر اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ نیٹ ورک میں شامل افراد کے درمیان رابطے کا طریقہ کیا تھا اور کیا دوسرے لوگ بھی اس سرگرمی میں شریک تھے۔

حکام اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلحہ سپلائی کرنے کے مبینہ نیٹ ورک اور فائرنگ کرنے والے مشتبہ شوٹروں کے درمیان براہ راست تعلق تھا یا نہیں۔ اس سلسلے میں سامنے آنے والے تمام دعووں کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

18 اکتوبر کی شام ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ

ممبئی میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ مبینہ طور پر 18 اکتوبر کی شام تقریباً سات بجے پیش آیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور فائرنگ میں ملوث مشتبہ افراد کے ساتھ ساتھ اسلحے کی مبینہ سپلائی کے ذرائع کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کی۔

تحقیقات کے دوران پولیس کی توجہ ان افراد پر بھی مرکوز ہوئی جن پر اسلحہ حاصل کرنے اور اسے ممبئی پہنچانے کا الزام ہے۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اسلحے کی سپلائی کا مبینہ نیٹ ورک فائرنگ کرنے والے افراد سے براہ راست جڑا ہوا تھا اور اس پورے واقعے میں ہر ملزم کی کیا ذمہ داری تھی۔

پولیس کے مطابق، واقعے کے بعد مبینہ شوٹروں کے ممبئی میں پھنس جانے کی اطلاع ملنے پر کنال سے ان کے شہر سے باہر نکلنے کے انتظامات کرنے کو کہا گیا تھا۔ تفتیشی ایجنسیاں اس دعوے کی بھی جانچ کر رہی ہیں کہ یہ درخواست کس نے کی تھی، مبینہ انتظامات کیسے کیے جانے تھے اور کیا اس میں دوسرے افراد نے بھی مدد کی تھی۔

ولیس مبینہ اسلحہ سپلائی نیٹ ورک کی جانچ میں مصروف

اس معاملے میں پولیس کے سامنے اہم سوال یہ ہیں کہ اسلحہ کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے ممبئی تک پہنچانے میں کن لوگوں نے کردار ادا کیا اور کیا اس پورے عمل کا تعلق فائرنگ کے واقعے سے تھا۔ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کے ذریعے مبینہ نیٹ ورک کی مزید کڑیوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسیاں یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا اسلحہ سپلائی کرنے والا مبینہ نیٹ ورک اس سے پہلے بھی کسی دوسری مجرمانہ سرگرمی میں استعمال ہوا تھا یا اسے خاص طور پر اس واقعے کے لیے منظم کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ملزمان کے درمیان رابطوں اور فائرنگ کے بعد مبینہ شوٹروں کی مدد کرنے سے متعلق دعووں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

فی الحال گرفتار افراد کے مبینہ کردار اور اسلحہ سپلائی نیٹ ورک سے متعلق تمام پہلو تحقیقات کا حصہ ہیں۔ پولیس کی جانب سے شواہد کی جانچ اور باضابطہ تصدیق کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ فائرنگ کے واقعے میں کون کس حد تک ملوث تھا اور اسلحے کی مبینہ سپلائی کا پورا منصوبہ کس طرح تیار کیا گیا تھا۔
 

News Image

1. راہل گاندھی کی جائیداد کے معاملے میں چیف جسٹس کی سرزنش، پوچھا: کیا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

  • کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے درخواست کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے تحقیقاتی حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

وندے ماترم نہ گانا کیا جرم ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب مانگا

  • وندے ماترم کے تمام 6 اشعار گانے کو لازمی قرار دینے اور اسے نہ گانے پر سزا کے امکان سے متعلق دائر کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں بنیادی حقوق اور سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
BY SHIRIN ·