تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
چین سے متعلق وائرل ویڈیوز پر فوج کا انکشاف، کرن رجیجو نے کانگریس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا


اروناچل پردیش میں چین کی مبینہ دراندازی اور بھارتی فوج کو ضروری سامان فراہم نہ کیے جانے کے دعوؤں سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ بھارتی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیوز کو غلط تناظر میں پیش کیا گیا۔ فوج کے مطابق، ایک ویڈیو میں سکم کے ناتھو لا درے پر مجاز سرحدی تجارتی راستے سے گزرنے والی تجارتی گاڑیاں دکھائی گئی ہیں، جبکہ دوسری ویڈیو کو ڈیپ فیک قرار دیا گیا ہے۔

فوج کی وضاحت کے بعد مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کانگریس پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار یا تبدیل کی گئی جعلی ویڈیوز پھیلا کر بھارتی فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ رجیجو نے کانگریس سے پورے ملک سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس کی ترجمان ریتو چودھری کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں چین سے متعلق سرگرمیوں اور اروناچل پردیش کی صورت حال کے بارے میں دعوے کیے گئے تھے۔ ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی گاڑیاں بھارتی علاقے میں داخل ہوگئی ہیں، جبکہ دوسری پوسٹ میں الزام لگایا گیا کہ چین نے اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور بھارتی فوج کو ضروری سامان فراہم نہیں کیا جارہا۔ ان دعوؤں کے بعد بھارتی فوج نے وضاحت جاری کی۔

 چینی دراندازی کے دعوے پر بھارتی فوج نے کیا کہا؟

بھارتی فوج نے اپنے سرکاری بیان میں پہلی ویڈیو کے ساتھ کیے گئے دعوے کو غلط قرار دیا۔ فوج کے مطابق، ویڈیو میں دکھائی دینے والی گاڑیاں چینی فوج کی گاڑیاں نہیں تھیں، بلکہ سکم میں ناتھو لا درے کے مجاز سرحدی تجارتی راستے پر چلنے والی تجارتی گاڑیاں تھیں۔ ناتھو لا بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تجارت کے لیے استعمال ہونے والا راستہ ہے۔

فوج نے واضح کیا کہ اس راستے پر تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت کو چینی فوج کی دراندازی کا ثبوت بناکر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔ اس کے مطابق، ویڈیو میں نظر آنے والی سرگرمی کو غلط تناظر میں بیان کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ چینی گاڑیاں بھارتی علاقے میں داخل ہوگئی ہیں۔

فوج کی وضاحت کا مقصد ویڈیو میں دکھائی دینے والی اصل سرگرمی اور اس کے ساتھ کیے جانے والے دعوے کے درمیان فرق واضح کرنا تھا۔ فوج کے مطابق، کسی مجاز تجارتی راستے پر گاڑیوں کی نقل و حرکت کو فوجی دراندازی قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔

سرحدی دراندازی سے متعلق دعوے قومی سلامتی کے حوالے سے حساس ہوتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں ویڈیو کے مقام، تاریخ اور اصل پس منظر کی تصدیق اہم ہے۔ فوج نے اسی تناظر میں وائرل ویڈیو کے بارے میں وضاحت جاری کی۔

 اروناچل پردیش پر چین کے قبضے کا دعویٰ کرنے والی ویڈیو ڈیپ فیک قرار

تنازع کی دوسری ویڈیو میں لیفٹیننٹ جنرل گریش کالیا سے منسوب بیان دکھایا گیا تھا۔ اس میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ چین نے اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور بھارتی فوج کو ضروری سامان کی فراہمی روک دی گئی ہے۔

بھارتی فوج نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک قرار دیتے ہوئے اصل فوٹیج کا پس منظر بھی واضح کیا۔ فوج کے مطابق، اصل ویڈیو 27 اکتوبر 2023 کو جموں و کشمیر کے کپواڑہ میں ہونے والی ایک پریس بریفنگ کی تھی۔ اس بریفنگ میں لائن آف کنٹرول کے پار سے دراندازی کی کوششوں کے بارے میں معلومات دی گئی تھیں۔

فوج نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل گریش کالیا نے اصل پریس بریفنگ میں یہ بیان نہیں دیا تھا کہ چین نے اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے یا بھارتی فوج کو ضروری سامان فراہم نہیں کیا جارہا۔ فوج کے مطابق، پرانی فوٹیج کو تبدیل کرکے یا اس کا سیاق و سباق بدل کر ایسے دعوے پیش کیے گئے جن کی اصل ویڈیو سے تصدیق نہیں ہوتی۔

اس معاملے نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا تبدیل کی گئی ویڈیوز کے استعمال پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کی تصویر اور آواز کو اس انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ اس نے کوئی ایسا بیان دیا ہے جو حقیقت میں اس نے نہیں دیا۔

جب ایسی ویڈیوز فوجی افسران، سرحدی تنازعات یا قومی سلامتی سے متعلق ہوں تو ان کے غلط استعمال سے عوام میں الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔ اسی لیے اصل فوٹیج اور سرکاری وضاحت کی جانچ اہم سمجھی جاتی ہے۔

 کرن رجیجو نے کانگریس سے معافی کا مطالبہ کیا

بھارتی فوج کی وضاحت کے بعد مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی اے آئی ویڈیوز پھیلا کر بھارتی فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ رجیجو نے مطالبہ کیا کہ کانگریس کو اس معاملے پر پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔

رجیجو کے مطابق، فوج سے متعلق غلط معلومات پھیلانا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، کیونکہ اس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر غلط تاثر قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کانگریس پر بھارت کے مخالفین کے ایجنڈے کو تقویت دینے کا الزام بھی لگایا۔

یہ الزامات کرن رجیجو کی جانب سے سیاسی تنازع کے دوران دیے گئے بیانات کا حصہ ہیں۔ بھارتی فوج کی وضاحت میں خاص طور پر وائرل ویڈیوز کی حقیقت اور ان کے اصل پس منظر پر بات کی گئی، جبکہ رجیجو نے اس معاملے کو کانگریس کی سیاسی ذمہ داری سے جوڑا۔

اس بیان کے بعد بی جے پی اور کانگریس کے درمیان لفظی جنگ مزید تیز ہوگئی ہے۔ بی جے پی رہنماؤں نے فوج کے بیان کو بنیاد بناکر کانگریس سے جواب طلب کیا ہے۔

 بی جے پی ترجمان سی آر کیسوان نے بھی تنقید کی

بی جے پی کے قومی ترجمان سی آر کیسوان نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے بھارتی فوج کے جوانوں کے کردار اور ان کی ساکھ کا ذکر کیا۔

بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فوج اور قومی سلامتی سے متعلق دعوے مناسب تصدیق کے بغیر شیئر نہیں کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق، بھارتی فوج کی وضاحت کے بعد وائرل ویڈیوز کے ساتھ کیے گئے دعوؤں کی سچائی پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

بی جے پی نے اس معاملے کو فوج کی ساکھ اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات کی درستگی کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹس اور ان کے ساتھ کیے گئے دعوؤں پر سیاسی بحث جاری ہے۔

 این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ کا ردعمل

کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے بھی اس تنازع پر ردعمل ظاہر کیا۔ جاکھڑ نے کہا کہ اگرچہ ویڈیو میں تکنیکی طور پر تبدیلی کی گئی ہو، لیکن ان کے خیال میں اس میں اٹھائے گئے وسیع تر مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مرکزی حکومت کی سرحدی سلامتی سے متعلق پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج اور سرحدی علاقوں کی صورت حال کا موازنہ کیا۔ جاکھڑ نے سوال کیا کہ اگر حکومت دہلی میں نوجوانوں کے جمہوری احتجاج کو روکنے کے لیے پوری طاقت استعمال کرتی ہے تو اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب سلامتی سے متعلق سوالات کے جواب کیوں نہیں دیے جاتے۔

انہوں نے چین کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی حکومت سے وضاحت طلب کی۔ ان کے بیانات کانگریس کی طلبہ تنظیم کا سیاسی ردعمل ہیں، لیکن ان سے وائرل ویڈیو میں کیے گئے مخصوص دعووں کی تصدیق نہیں ہوتی۔

فوج کی وضاحت کا تعلق ان دو ویڈیوز کی اصلیت اور پس منظر سے ہے، جبکہ سرحدی سلامتی کے بارے میں وسیع تر سیاسی سوالات ایک الگ معاملہ ہیں۔ ان کا جائزہ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

 قومی سلامتی سے متعلق ویڈیوز کی تصدیق کیوں ضروری ہے؟

یہ تنازع ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز کو نئے دعوؤں کے ساتھ شیئر کرنے یا ان میں تبدیلی کرکے پیش کرنے سے کس طرح غلط معلومات پھیل سکتی ہیں۔ بعض اوقات کسی ویڈیو کی اصل تاریخ اور مقام چھپا کر اسے کسی دوسرے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص سے ایسا بیان منسوب کیا جاسکتا ہے جو اس نے حقیقت میں نہیں دیا۔

اس معاملے میں بھارتی فوج نے ایک ویڈیو کو ناتھو لا کے مجاز سرحدی تجارتی راستے پر گاڑیوں کی آمدورفت سے متعلق قرار دیا، جبکہ دوسری ویڈیو کو کپواڑہ میں 2023 کی پریس بریفنگ کی تبدیل شدہ فوٹیج بتایا۔ فوج کے مطابق، دونوں ویڈیوز کے ساتھ کیے گئے دعوے اصل فوٹیج سے ثابت نہیں ہوتے۔

کسی ویڈیو کو درست ماننے سے پہلے اس کا اصل ذریعہ، تاریخ، مقام اور متعلقہ ادارے کی وضاحت دیکھنا ضروری ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ فوجی نقل و حرکت، سرحدی علاقے پر کنٹرول یا فوجیوں کو ضروری سامان کی فراہمی سے متعلق ہو تو غیر مصدقہ معلومات کو حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

 فوج کی وضاحت کے بعد بھی سیاسی تنازع جاری

بھارتی فوج کے بیان کے بعد بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ کرن رجیجو نے کانگریس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، جبکہ این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ نے حکومت سے سرحدی سلامتی سے متعلق سوالات کیے ہیں۔

فوج نے دونوں وائرل ویڈیوز کے دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔ پہلی ویڈیو میں سکم کے ناتھو لا کے مجاز تجارتی راستے پر چلنے والی گاڑیاں دکھائی گئی تھیں، جبکہ دوسری ویڈیو کو 2023 میں کپواڑہ کی پریس بریفنگ کی فوٹیج سے تیار کردہ ڈیپ فیک بتایا گیا ہے۔

اس معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے، لیکن ویڈیوز کی اصلیت اور پس منظر کے بارے میں بھارتی فوج کی وضاحت سرکاری موقف کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے کہ فوج اور قومی سلامتی سے متعلق دعوؤں کو شیئر کرنے سے پہلے ان کی درستگی کی تصدیق کی جائے۔
 

News Image

1. راہل گاندھی کی جائیداد کے معاملے میں چیف جسٹس کی سرزنش، پوچھا: کیا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

  • کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے درخواست کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے تحقیقاتی حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

وندے ماترم نہ گانا کیا جرم ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب مانگا

  • وندے ماترم کے تمام 6 اشعار گانے کو لازمی قرار دینے اور اسے نہ گانے پر سزا کے امکان سے متعلق دائر کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں بنیادی حقوق اور سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
BY SHIRIN ·