جاپان دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے، جس کے تحت وہ اپنے جنوب مغربی علاقوں میں فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ کی سیکیورٹی ضمانتوں پر اعتماد میں کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
یہ تبدیلی جاپان کے جنوبی جزائر، خاص طور پر کیوشو اور قریبی علاقوں پر مرکوز ہے، جہاں حال ہی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ نظام صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ جاپان کی سرحدوں سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جن میں چین کے بعض علاقے بھی شامل ہیں۔ حکام نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کو جنگ کے بعد کی تاریخ کا سب سے پیچیدہ اور سنگین مرحلہ قرار دیا ہے۔
یہ نئی حکمت عملی، جسے اکثر “سدرن شیلڈ” کہا جاتا ہے، نانسی یا ریوکیو جزائر پر مرکوز ہے، جو تائیوان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جزائر اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں اور خطے میں ایک قدرتی دفاعی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔
جاپان کا دفاعی بجٹ بھی نمایاں طور پر بڑھایا گیا ہے، جس میں جدید میزائل نظام، الیکٹرانک وارفیئر اور فضائی دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا مقصد دفاعی صلاحیت کو اس حد تک مضبوط بنانا ہے کہ کسی بھی ممکنہ دشمن کے لیے فوجی کارروائی مشکل ہو جائے۔
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو “جوابی حملے کی صلاحیت” ہے، جس کے تحت جاپان کسی حملے کی صورت میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ اقدام جاپان کے امن پسند آئین کی روایتی تشریح سے آگے بڑھتا ہے، جس میں فوجی کارروائی کو صرف دفاع تک محدود رکھا گیا تھا۔ تاہم آئین میں ترمیم کے بجائے مختلف حکومتوں نے اس کی نئی تشریح کے ذریعے دفاعی دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔
جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز، جو ابتدا میں محدود کردار کے ساتھ قائم کی گئی تھیں، اب ایک جدید فوجی طاقت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ عوامی رائے بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوئی ہے، اور اب زیادہ لوگ مضبوط دفاعی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور چین کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں۔
اگرچہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اس حکمت عملی کا ایک بڑا سبب ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سیکیورٹی وابستگی پر بڑھتے خدشات بھی جاپان کے فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ نے جاپان کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔
اسی غیر یقینی صورتحال نے جاپان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو خود مضبوط بنانے اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر آمادہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید جنگی رجحانات جیسے ڈرونز اور سپلائی چین کے خطرات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، جو مستقبل کی جنگوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انڈو پیسیفک خطے میں بڑھتی کشیدگی، خاص طور پر تائیوان کے حوالے سے، جاپان کی نئی دفاعی حکمت عملی کو ایک ایسے توازن کی کوشش کے طور پر ظاہر کرتی ہے جس میں وہ اپنی امن پسند روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔