تائیوان میں امریکہ کے اعلیٰ سفارتی نمائندے ریمنڈ گرین نے کہا ہے کہ تائیوان کو "ڈرونز کا ہارنیٹس نیسٹ" بنانا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تنازع کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق جدید جنگ میں ڈرونز دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم اور فیصلہ کن حصہ بن چکے ہیں۔
تائیچونگ میں ڈرون فورم سے خطاب کرتے ہوئے گرین نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی تائیوان کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ایک "گیم چینجر" ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یوکرین جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈرونز نے نسبتاً کمزور فریق کو بھی مؤثر دفاع کی صلاحیت فراہم کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور تائیوان مل کر جمہوری ممالک کے لیے ڈرون مینوفیکچرنگ کا مضبوط نظام قائم کر سکتے ہیں، جس سے اجتماعی دفاعی صلاحیت اور دشمن کو روکنے کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق فضائی، بحری اور زیرِ آب ڈرونز کا وسیع نیٹ ورک کسی بھی جارحیت کو روکنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب تائیوان کی حکومت نے 2031 تک نگرانی، ساحلی دفاع اور بغیر پائلٹ بحری ڈرونز کی تیاری کے لیے تقریباً 6.59 ارب ڈالر کے نئے منصوبے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم دفاعی اخراجات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




