پونے میں ایک سنسنی خیز قتل کے مقدمے نے سوشل میڈیا پر نظر آنے والی محبت کی کہانی کے پیچھے چھپی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق کیتن اگروال کی ہلاکت کے الزام میں اس کی منگیتر سیا گوئل اور اس کے مبینہ عاشق چیتن چودھری کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سیا اور کیتن کی منگنی فروری میں ہوئی تھی اور دونوں کی شادی رواں سال کے آخر میں طے تھی۔ سوشل میڈیا پر دونوں کی رومانوی تصاویر، ویڈیوز اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق پوسٹس مسلسل شیئر کی جاتی تھیں۔
پولیس تحقیقات کے مطابق سیا کا چیتن چودھری کے ساتھ بھی تعلق تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیا کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اسے اپنے دوسرے تعلق کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگی تھی۔
تحقیقاتی اداروں کا الزام ہے کہ اسی وجہ سے سیا اور چیتن نے مل کر کیتن کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی۔ 18 جون کو کیتن کو سیر و تفریح کے بہانے پونے کے قریب لوہاگڑھ قلعے لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر اسے کھائی میں دھکا دے دیا گیا۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثہ سمجھا گیا تھا، لیکن بعد میں پولیس کو کئی مشتبہ شواہد ملے جن کے بعد تفتیش کا رخ تبدیل ہو گیا۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد نے مبینہ سازش کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران سیا اور چیتن کے درمیان دو ہزار سے زائد فون کالز ہوئی تھیں۔
پولیس نے دونوں ملزمان کو قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت نے انہیں پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




