مرکزی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی خریداری کے حوالے سے نئی گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ نئے حکم کے تحت صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین اب عام پیٹرول پمپوں سے ایندھن نہیں خرید سکیں گے۔
یہ پابندی ابتدائی طور پر 90 دن کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران بڑے صارفین کو اپنی ضرورت کا ایندھن صرف مجاز تھوک مراکز سے خریدنا ہوگا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عام صارفین کو مہنگائی سے بچانے کے لیے ریٹیل قیمتوں کو محدود رکھا گیا جبکہ تھوک قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ اس فرق کی وجہ سے بڑے صارفین نے پیٹرول پمپوں سے بڑی مقدار میں ایندھن خریدنا شروع کر دیا تھا۔
اس صورتحال سے عام شہریوں کے لیے ایندھن کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا، جس کے بعد حکومت نے نئی پابندیاں نافذ کیں۔
نئے قواعد کیا ہیں؟
* صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین عام پیٹرول پمپوں سے پیٹرول یا ڈیزل نہیں خرید سکیں گے۔
* انہیں ایندھن صرف مجاز تھوک ڈیلرز سے خریدنا ہوگا۔
* ڈیزل صرف گاڑی کے مرکزی ٹینک یا PESO سے منظور شدہ کنٹینر میں فروخت کیا جائے گا۔
* پیٹرول پمپ سے خریدا گیا ایندھن دوبارہ فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔
* خلاف ورزی کی صورت میں ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت کارروائی ہوگی۔
روزانہ کتنا ایندھن خریدا جا سکتا ہے؟
حکومت نے مشتبہ اور بڑے خریداروں کے لیے روزانہ خریداری کی حد مقرر کر دی ہے۔ اب کوئی بھی صارف یا گاڑی ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل ہی خرید سکے گی۔
نگرانی اور کارروائی
قواعد پر عمل درآمد کے لیے مجاز سرکاری افسران، ڈی ایس پی یا اس سے اعلیٰ درجے کے پولیس افسران اور تیل کمپنیوں کے سینئر افسران کو تلاشی، جانچ اور ضبطی کے اختیارات دیے گئے ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




