کولکاتا۔ مغربی بنگال کی سیاست میں جاری رسہ کشی کے درمیان کلکتہ ہائی کورٹ نے ممتا بنرجی کے گروپ کو بڑا دھچکا دیا ہے۔ عدالت نے باغی ٹی ایم سی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کو قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کرنے کے فیصلے پر عبوری پابندی لگانے سے انکار کر دیا۔
جسٹس کرشنا راؤ نے سماعت کے دوران دونوں فریقین کو اپنے حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت دی اور کیس کی اگلی سماعت 28 جولائی مقرر کر دی۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹی ایم سی سے نکالے گئے رتبرت بنرجی نے دعویٰ کیا کہ انہیں 58 باغی ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے ایک الگ گروپ تشکیل دیا جو ممتا بنرجی کی قیادت کو قبول کرتا ہے لیکن ابھیشیک بنرجی کے کردار کی مخالفت کرتا ہے۔
بعد ازاں اسمبلی اسپیکر رتھیندر بوس نے باغی گروپ کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے رتبرت بنرجی کو قائدِ حزبِ اختلاف قرار دے دیا، جبکہ ممتا گروپ نے شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔
ممتا بنرجی کے حامیوں نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسے آئینی اصولوں اور پارلیمانی روایات کے خلاف قرار دیا تھا، لیکن عدالت نے فی الحال اسپیکر کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




