تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
امریکی عدالت کا فلسطینی حقوق کے حامی صلاح سرسور کی رہائی کا حکم

امریکا کے وفاقی جج جیمز پیٹرک ہینلن نے فلسطینی حقوق کے حامی اور اسلامک سوسائٹی آف ملواکی کے صدر صلاح سرسور کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سرسور مارچ سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ صلاح سرسور نے یہ مضبوط مؤقف پیش کیا ہے کہ انہیں فلسطین کی حمایت میں کی جانے والی عوامی سرگرمیوں اور بیانات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، جو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت محفوظ اظہارِ رائے ہے۔ جج نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے خدشات آزادیٔ اظہار کے بنیادی حقوق کو خود بخود ختم نہیں کر سکتے۔

صلاح سرسور کو 31 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں انڈیانا کے ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا تھا۔ وہ تقریباً 32 برس سے امریکا میں مقیم ہیں اور قانونی مستقل رہائشی حیثیت رکھتے ہیں۔

امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے امیگریشن دستاویزات میں اسرائیلی فوجی عدالت کی ایک پرانی سزا ظاہر نہیں کی۔ سرسور نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکا میں فلسطین نواز آوازوں کے خلاف وسیع کارروائیوں کا حصہ ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد صلاح سرسور کو رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں مقدمے کی کارروائی جاری رہنے تک وسکونسن واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی رہائی کو آزادیٔ اظہار کی فتح قرار دیتے ہوئے فلسطینی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

News Image

یوپی کابینہ کا بڑا فیصلہ، جلال آباد کا نام تبدیل کرکے پرشورام پوری رکھا جائے گا

  • اتر پردیش کابینہ نے شاہجہاں پور کے جلال آباد کا نام پرشورام پوری رکھنے اور اسٹارٹ اپ پالیسی 2026 سمیت 27 تجاویز کی منظوری دے دی۔
BY Saba Parveen ·