کانپور میں مون سون کی پہلی شدید بارش نے شہری انتظامیہ کی تیاریوں کی قلعی کھول دی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکیں دھنس گئیں، بڑے پیمانے پر پانی جمع ہوگیا اور ایک رہائشی اپارٹمنٹ کا بیسمنٹ بیٹھ جانے کے بعد عمارت کو احتیاطاً خالی کرا لیا گیا۔
شدید بارش کے باعث شہر کی اہم سڑکیں اور چوراہے زیرِ آب آگئے، جس سے ٹریفک کئی گھنٹے متاثر رہی۔ متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس کر بند ہوگئیں جبکہ نامکمل ترقیاتی منصوبوں اور ناقص نکاسیٔ آب کے باعث کئی سڑکیں خطرناک بن گئیں۔
کاکادیو علاقے میں واقع چار منزلہ ہارمونی اپارٹمنٹ کے بیسمنٹ کا ایک حصہ بیٹھ جانے پر انتظامیہ نے پوری عمارت خالی کرا دی۔ مقامی رہائشیوں نے قریبی تعمیراتی سرگرمیوں کو حادثے کی وجہ قرار دیا، جبکہ میٹرو حکام نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔
ادھر پھول باغ علاقے میں آرڈیننس ایکوئپمنٹ فیکٹری کی تقریباً 40 سال پرانی باؤنڈری وال بھی بارش کے دوران گر گئی۔ خوش قسمتی سے اس وقت ٹریفک کم ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پہلی ہی مون سون بارش نے شہر میں نکاسیٔ آب، سڑکوں کے معیار اور شہری منصوبہ بندی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




