ایران، اسرائیل اور امریکہ سے جڑے تنازع کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں جنگ نے انسانی، معاشی اور سفارتی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔
اگرچہ تنازع کے دوران جنگ بندی کے اعلانات بھی ہوئے، لیکن کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے سیکیورٹی واقعات اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے مستقل امن کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔
اس جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں کمی نے عالمی تیل سپلائی اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
تیل اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا اثر دنیا بھر کے صارفین پر پڑا ہے۔ نقل و حمل، خوراک کی پیداوار اور صنعتی شعبوں کے اخراجات میں اضافے نے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اگرچہ بعض اسٹاک مارکیٹوں نے بعد میں بہتری دکھائی، لیکن توانائی کے تحفظ اور عالمی اقتصادی سست روی کے خدشات برقرار ہیں۔
تنازع کے خاتمے کے لیے کئی سفارتی مذاکرات ہوئے، تاہم اب تک کسی جامع اور دیرپا معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔ سلامتی اور علاقائی معاملات اب بھی اہم رکاوٹیں سمجھے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آنے والے مہینے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت طے کرے گا کہ آیا سفارت کاری اور مذاکرات مستقل امن کی راہ ہموار کرتے ہیں یا خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے۔
جنگ کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا مذاکرات اور سیاسی حل مزید تصادم کو روک سکتے ہیں یا نہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




