لندن۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لبنان میں تازہ جھڑپوں اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی سست رفتار نے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
برینٹ کروڈ اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کار خطے کی سکیورٹی صورتحال اور خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔
اگرچہ کچھ آئل ٹینکرز نے دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کر دیا ہے، لیکن بحری سرگرمیاں اب بھی معمول سے کم ہیں۔ ماہرین کے مطابق سکیورٹی خدشات، انشورنس اخراجات اور ترسیلات میں رکاوٹوں کی وجہ سے مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کے بعد مارکیٹ میں امید پیدا ہوئی تھی، لیکن مجوزہ مذاکرات کے مؤخر ہونے اور لبنان میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے سے امن عمل کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیل کی قیمتیں جنگی بحران کے دوران کی بلند ترین سطح سے نیچے ہیں، تاہم خطے میں مسلسل عدم استحکام آنے والے ہفتوں میں مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھ سکتا ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




