ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 پر نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں جس کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
17 جون کو ہونے والے عبوری معاہدے کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس کے تحت ایران کو 60 دن تک خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایک تجارتی جہاز پر حملہ ہوا جس کے بعد امریکا نے ایران پر جوابی حملے کیے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کی نگرانی اور انتظام اس کی ذمہ داری ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر حملے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع اب بھی ایران اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ہے اور اس کے عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




