بھارت کی معروف نجی آئل ریفائننگ کمپنی نایارا انرجی اس وقت خبروں میں ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی کی گجرات میں واقع ریفائنری میں تیار کیا گیا پٹرول بین الاقوامی تاجروں کے ذریعے روس پہنچا ہے۔
روس میں حالیہ مہینوں کے دوران یوکرین کے ڈرون حملوں نے کئی آئل ریفائنریوں اور توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث وہاں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔ اگرچہ نایارا انرجی نے ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم بھارتی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ بھارتی کمپنیاں روس کو براہِ راست ایندھن فروخت نہیں کر رہیں، لیکن بین الاقوامی تاجروں کے ذریعے بھارتی ایندھن وہاں پہنچ سکتا ہے۔
نایارا انرجی گجرات کے وڈینار میں بھارت کی دوسری سب سے بڑی سنگل سائٹ آئل ریفائنری چلاتی ہے، جس کی یومیہ صلاحیت تقریباً چار لاکھ بیرل خام تیل کی پروسیسنگ ہے۔ کمپنی ملک بھر میں سات ہزار سے زائد فیول اسٹیشن بھی چلاتی ہے اور بڑی مقدار میں روسی خام تیل کو ریفائن کرتی ہے۔
یوکرینی حملوں کے باعث روس کی متعدد ریفائنریاں، فیول ڈپو اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا، جس سے ملک میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔ اس صورتحال کے بعد روس نے بین الاقوامی منڈی سے ایندھن حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ایندھن براہِ راست بھارت سے نہیں بلکہ عالمی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے روس پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نایارا انرجی میں تیار ہونے والے پٹرول کی کم از کم دو کھیپ روس روانہ کی گئی، جس سے عالمی توانائی تجارت میں نجی تاجروں کے کردار پر دوبارہ توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




