دبئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ جب تک اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے واپس نہیں جاتی جن پر اس نے جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، تب تک جنگ کو مکمل طور پر ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں عراقچی نے غیر ملکی سفارت کاروں سے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان پر اسرائیل کا کوئی بھی نیا حملہ بھی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکام نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ آیا لبنان کا معاملہ حتمی معاہدے کا حصہ ہے یا نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس معاہدے سے خود کو الگ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ضروریات کے مطابق لبنان کے بفر زون میں موجود رہے گا۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کا فیصلہ ہے جبکہ اسرائیل اپنی ترجیحات کے مطابق اقدامات کرے گا۔
فریقین کے متضاد بیانات نے معاہدے کے کئی اہم نکات پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنیوا میں متوقع دستخطی تقریب سے قبل ابھی کئی معاملات طے ہونا باقی ہیں، جو امن عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




