سیپری (SIPRI) کی 2026 رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے پاس تقریباً 190 جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔ ان میں سے کم از کم 12 وارہیڈز کو میزائلوں، آبدوزوں یا جنگی طیاروں جیسے نظاموں کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت کے کچھ جوہری ہتھیاروں کو صرف ذخیرے کا حصہ نہیں بلکہ آپریشنل تعیناتی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ماضی میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ بھارت امن کے دوران جوہری وارہیڈز اور لانچنگ سسٹمز کو الگ رکھتا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں میزائلوں کی کینسٹرائزیشن اور جوہری آبدوزوں کی فعال گشت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 170 جوہری وارہیڈز ہیں، لیکن ان کی آپریشنل تعیناتی کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری جانب بھارت اپنی جوہری صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
آئی کین (ICAN) کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر اخراجات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے۔ بھارت نے اپنے جوہری پروگرام پر تقریباً 2.8 ارب ڈالر خرچ کیے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




