سوشل میڈیا پر بحث چھڑنے کے بعد بھارتی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ پاسپورٹ کے حوالے سے کوئی نئی پالیسی متعارف نہیں کرائی گئی۔ حکومت کے مطابق یہ قانونی مؤقف کئی دہائیوں سے موجود ہے اور پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے، نہ کہ شہریت کا قطعی ثبوت۔
پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے تحت مرکزی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ مخصوص حالات میں کسی غیر شہری یا غیر ملکی فرد کو بھی پاسپورٹ یا سفری دستاویز جاری کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پاسپورٹ کا حامل ہونا کسی شخص کی بھارتی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں مانا جاتا۔
حکومت کے مطابق بھارت میں شہریت کا تعین شہریت ایکٹ 1955 اور اس سے متعلق قواعد کے تحت کیا جاتا ہے۔ پاسپورٹ اگرچہ شناخت اور بیرونِ ملک سفر کے لیے ایک اہم دستاویز ہے، لیکن شہریت کا فیصلہ قانونی معیار اور متعلقہ شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت موضوعِ بحث بنا جب وزارتِ خارجہ نے پاسپورٹ سیوا دیوس کے موقع پر کہا کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر سفر کے لیے جاری کیا جانے والا دستاویز ہے، اسے شہریت کے حتمی ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
حکام نے یاد دلایا کہ بھارتی عدالتیں متعدد بار قرار دے چکی ہیں کہ شہریت کا تعین شہریت ایکٹ کے تحت کیا جائے گا۔ 2013 کے بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی فرد کی شہریت کا فیصلہ قانونی ضوابط کے مطابق ہوگا، نہ کہ صرف ایک دستاویز کی بنیاد پر۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے مختلف دستاویزات، ثبوت اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے پاسپورٹ کو اہم شناختی دستاویز تو سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے شہریت کا واحد یا حتمی ثبوت نہیں مانا جاتا۔
اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین اور عوام کے درمیان بحث تیز ہو گئی ہے کہ شہریت کے تعین کے لیے کون سے دستاویزات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے قانونی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




