جنوبی کوریا نے مصنوعی ذہانت سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں عالمی قیادت برقرار رکھنے کے لیے ایک وسیع سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ صدر لی جے میونگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار اقدامات ناگزیر ہیں۔
حکومت کے منصوبے کے تحت آنے والے برسوں میں ایک کھرب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ چپ سازی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔
دنیا کی دو بڑی میموری چپ بنانے والی کمپنیاں سام سنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر 800 کھرب وون یعنی تقریباً 518 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔ اس منصوبے کے تحت جنوب مغربی علاقے میں دو دو نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹس قائم کیے جائیں گے۔
صدر لی نے بتایا کہ گوانگجو شہر اور جنوبی جیولا صوبہ بھی ان منصوبوں میں 5 سے 20 کھرب وون تک سرمایہ کاری کریں گے جبکہ سیول کے قریب چنگ چونگ علاقے میں چپ پیکیجنگ کلسٹر کے لیے مزید 81 کھرب وون مختص کیے جائیں گے۔
حکومت نے مصنوعی ذہانت کے جدید ڈیٹا سینٹرز بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جن میں ایس کے گروپ جی ایس گروپ اور نیور مجموعی طور پر 550 کھرب وون کی سرمایہ کاری کریں گے۔ وزیر سائنس بے کیونگ ہون کے مطابق 2035 تک 10 گیگا واٹ صلاحیت کا نیا اے آئی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا جس پر مجموعی سرمایہ کاری 1000 کھرب وون سے تجاوز کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں جنوبی کوریا کی عالمی برتری کو مزید مضبوط بنانا اور سیول سے باہر علاقائی معیشت کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ نئے سیمی کنڈکٹر منصوبوں کے مقامات کا انتخاب صنعتی ضرورت کے بجائے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




