لکھنؤ کے علاقے علی گنج میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کے وقت عمارت میں موجود کئی افراد باہر نکلنے میں ناکام رہے اور اندر ہی پھنس گئے۔
عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق عمارت کے دفتر کا مرکزی دروازہ تھمب امپریشن سسٹم کے ذریعے کھلتا تھا۔ آگ کے دوران بجلی اور سسٹم کی خرابی کے باعث دروازہ خودکار طور پر لاک ہو گیا، جس سے متعدد افراد باہر نہ نکل سکے۔
اطلاعات کے مطابق یہ عمارت وریندر شکلا کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ 2014 میں رہائشی نقشے کو تبدیل کرکے عمارت کو تجارتی استعمال کے لیے منظوری کیسے دی گئی۔
واقعے کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
حکومت نے دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے، جس میں آئی اے ایس افسر امرت ابھیجات اور آئی پی ایس افسر پروین کمار شامل ہیں۔
ایس آئی ٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر حفاظتی انتظامات، ممکنہ غفلت اور حادثے کی وجوہات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔
ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ حکام واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




