بہار میں NEET-UG امتحان سے متعلق ایک بڑے فراڈ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ سالور گینگ نے امتحانی مراکز پر بایومیٹرک تصدیقی نظام میں نقب لگا کر اصلی امیدواروں کی جگہ جعلی امیدواروں کو امتحان میں بٹھایا۔
پولیس کے مطابق اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار راجگیر کے پاواپوری میڈیکل کالج کا طالب علم روی شنکر تھا۔ اس نے مختلف میڈیکل کالجوں کے طلبہ کو سالور کے طور پر تیار کیا اور انہیں امتحان میں شریک کرایا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پٹنہ میڈیکل کالج کے چوتھے سال کے طالب علم میانک کشیپ نے مبینہ طور پر بایومیٹرک اسٹاف کے طور پر کام کیا اور تصدیقی عمل میں مداخلت کرکے جعلی امیدواروں کو امتحانی مراکز میں داخل کروانے میں مدد کی۔
اب تک پولیس نو میڈیکل طلبہ سمیت مجموعی طور پر 30 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ گرفتار افراد میں بایومیٹرک ایجنسی کے ملازمین، گینگ کے دیگر ارکان اور ایک اصل امیدوار بھی شامل ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہر امیدوار سے 10 سے 12 لاکھ روپے تک کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ رقم کا کچھ حصہ پیشگی وصول کیا جاتا تھا جبکہ باقی رقم کامیابی اور داخلے کے بعد ادا کی جانی تھی۔
پولیس بینک کھاتوں، موبائل کال ریکارڈز اور ڈیجیٹل لین دین کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور اس ریکیٹ میں شامل تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




