بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں سیاسی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے سابق DMK وزیر اور رکن اسمبلی وی. سینتھل بالاجی کے بھائی اشوک کمار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق اشوک کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے حکمران جماعت TVK کے رکن اسمبلی این. الیاراجا کو پارٹی چھوڑنے کے بدلے 35 کروڑ روپے کی پیشکش کی۔ رکن اسمبلی نے شکایت میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں متعدد بار مالی لالچ اور دباؤ کے ذریعے پارٹی تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس معاملے میں پولیس پہلے ہی پانچ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ تحقیقات کے دوران ایک ملزم نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس نے چنئی میں اشوک کمار سے ملاقات کے بعد TVK رکن اسمبلی سے رابطہ کیا تھا۔
تحقیقات کے تحت پولیس مبینہ ملاقاتوں، کال ریکارڈز، الیکٹرانک شواہد اور مالی وعدوں سے متعلق مواد کا جائزہ لے رہی ہے۔ ابتدائی شواہد اور بیانات کی بنیاد پر اشوک کمار کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قانون سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تمل ناڈو میں وزیراعلیٰ سی. جوزف وجے کی قیادت میں TVK حکومت کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت سے قائم ہوئی تھی، جبکہ اپوزیشن DMK مسلسل حکومت کی اکثریت پر سوالات اٹھاتی رہی ہے، جس کے باعث ریاست کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




