واشنگٹن۔ امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک ایسی کشتی پر حملہ کیا ہے جس پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی ایک معروف منشیات اسمگلنگ روٹ پر سفر کر رہی تھی، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں کشتی کو حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ ٹرمپ انتظامیہ کی انسدادِ منشیات مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت مبینہ اسمگلروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف متعدد کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس مہم میں اب تک سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین اور بعض قانون سازوں نے ان حملوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے کئی معاملات میں عوامی سطح پر ایسے شواہد پیش نہیں کیے جو نشانہ بنائے گئے افراد کے خلاف الزامات کو ثابت کر سکیں۔
دوسری جانب پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے ان کارروائیوں میں ہدف کے انتخاب کے طریقہ کار کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ شفافیت کے مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




