وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کے مغربی علاقے میں بدھ کے روز آنے والے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ زلزلے کے باعث کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور جھٹکا محسوس کیا گیا۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم حکام نے ابھی تک کسی سرکاری تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ حکومت امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں منہدم عمارتوں اور ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے کہا کہ حکومت بحران سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے۔
زلزلے کے بعد امریکہ نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ وینزویلا کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تعاون کیا جا سکے۔
کاراکاس کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کے علاج کے لیے اضافی طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے کو بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




