پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے 24 سال پرانے ریپ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا اور ٹرائل کورٹ کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس سوریہ پرتاپ سنگھ نے کہا کہ جنسی زیادتی ایک سنگین جرم ہے اور حقیقی متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے، تاہم اگر الزامات جھوٹے ثابت ہوں تو ملزم کے حقوق اور عزت کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مقدمے میں شکایت کنندہ کا بیان لازماً درست ہوگا۔ ہر کیس کا فیصلہ دستیاب شواہد، گواہوں اور حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
یہ مقدمہ 2002 میں چندی مندر پولیس اسٹیشن میں بھارتی تعزیرات کی دفعات 376، 452 اور 506 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2004 میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پایا کہ استغاثہ کی کہانی میں کئی اہم خامیاں موجود تھیں۔ عدالت کے مطابق اہم گواہوں کو پیش نہیں کیا گیا، شکایت کنندہ کے بیانات میں تضادات تھے اور شواہد کا سلسلہ بھی مکمل نہیں تھا۔
ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص پر جھوٹا ریپ کا الزام لگایا جائے تو اس سے بھی شدید ذہنی، سماجی اور قانونی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مضبوط شواہد کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)




