این بی اے پلے آف میں ایک اور دلچسپ رات دیکھنے کو ملی جب مِنیسوٹا ٹمبر وولوز نے ڈینور نگیٹس کو گیم 3 میں 113-96 سے شکست دے کر سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کر لی۔
جیڈن میک ڈینیئلز نے 20 پوائنٹس اور 10 ریباؤنڈز کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی، جبکہ ایو ڈوسنمو نے بینچ سے آ کر 25 پوائنٹس اور 9 اسسٹ دے کر بڑا کردار ادا کیا۔ ڈونٹے ڈی وِنچینزو نے 15 پوائنٹس اور 4 اسٹیلس کے ساتھ ٹیم کی کامیابی میں حصہ ڈالا، جبکہ مِنیسوٹا کی دفاعی کارکردگی نے ڈینور کو پہلے کوارٹر میں صرف 11 پوائنٹس تک محدود کر دیا، جو ایک ریکارڈ ہے۔
دفاعی طور پر روڈی گوبرٹ نے ایک بار پھر نکولا یوکچ کو قابو میں رکھا، جنہوں نے 27 پوائنٹس اور 15 ریباؤنڈز کے باوجود 26 میں سے صرف 7 شاٹس کامیاب کیے۔ ڈینور کو ایرون گورڈن کی عدم موجودگی کا بھی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ جمال مرے نے 16 پوائنٹس بنائے لیکن مؤثر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
دوسری جانب اٹلانٹا ہاکس نے نیویارک نکس کو ایک سنسنی خیز مقابلے میں 109-108 سے شکست دے کر سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کر لی۔ سی جے مک کولم نے آخری لمحات میں اہم شاٹ لگا کر ٹیم کو فتح دلائی اور مجموعی طور پر 23 پوائنٹس اسکور کیے۔
اٹلانٹا نے میچ کے آغاز میں ہی 18 پوائنٹس کی برتری حاصل کر لی تھی، لیکن نیویارک نے واپسی کی کوشش کی۔ جیلن برنسن نے آخری منٹ میں برتری دلائی، مگر ہاکس نے فوری ردعمل دیا۔ جیلن جانسن نے 24 پوائنٹس کے ساتھ نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ جوناتھن کومنگا نے بینچ سے آ کر 21 پوائنٹس بنائے۔
نکس کی جانب سے او جی انونوبی نے 29 پوائنٹس اسکور کیے، برنسن نے 26 اور کارل انتھونی ٹاؤنز نے 21 پوائنٹس بنائے، مگر ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
ایک اور مقابلے میں ٹورنٹو ریپٹرز نے کلیولینڈ کیولیئرز کو شکست دے کر سیریز کا اسکور 2-1 کر دیا اور کلیولینڈ کے خلاف پلے آف میں 12 میچز کی مسلسل ہار کا سلسلہ ختم کر دیا۔
اسکاٹی بارنز نے 33 پوائنٹس اور 11 اسسٹ کے ساتھ شاندار کھیل پیش کیا، جبکہ آر جے بیریٹ نے بھی 33 پوائنٹس بنائے۔ کولن مرے بوائلز نے 22 پوائنٹس اسکور کیے اور جیمسن بیٹل نے چوتھے کوارٹر میں 14 پوائنٹس کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔
کلیولینڈ کی جانب سے ڈونوون مچل، ایون موبلی اور میکس اسٹرس نے 15، 15 پوائنٹس بنائے جبکہ جیمز ہارڈن نے 18 پوائنٹس اسکور کیے، لیکن ٹیم اپنی جیت کا سلسلہ برقرار نہ رکھ سکی۔
پلے آف میں مختلف سیریز میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے ساتھ مقابلے مزید دلچسپ ہوتے جا رہے ہیں، جہاں ٹیمیں اگلے مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہیں۔