امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نیشنل سائنس بورڈ کے تمام 22 ارکان کو برطرف کر دیا ہے، جو نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے لیے پالیسی سازی کرنے والا ایک اہم مشاورتی ادارہ ہے۔ اس فیصلے پر قانون سازوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور امریکا میں سائنسی نظام کی خودمختاری کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
نیشنل سائنس بورڈ، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کا پالیسی اور نگرانی کا اہم حصہ ہے، جو دنیا بھر میں سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے سب سے بڑے سرکاری فنڈنگ اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ تمام ارکان کو ایک ساتھ ہٹانے کے فیصلے کو وفاقی اداروں کی ازسرِ نو تشکیل کے وسیع تر عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق رکن راجر بیچی، جنہیں دوسری مدت کے لیے دوبارہ تعینات کیا گیا تھا، نے بتایا کہ برطرفی بغیر کسی وضاحت کے کی گئی۔ ان کے مطابق ارکان کو مختصر نوٹس بھیجا گیا جس میں صرف خدمات پر شکریہ ادا کیا گیا، لیکن کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے بورڈ کی تشکیل ادارے کی خودمختاری اور تحقیقاتی ترجیحات کو متاثر کر سکتی ہے۔
ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔ زوئی لوفگرین نے اسے امریکی جدت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا آئندہ تقرریاں سائنسی مہارت کے بجائے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کی جائیں گی۔
انتظامیہ کی جانب سے اب تک اس فیصلے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی نئے ارکان کی تقرری کے حوالے سے کوئی منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اقدام اس سے قبل وفاقی اداروں میں فنڈنگ کٹوتیوں اور تنظیمِ نو جیسے اقدامات کے تسلسل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ برسوں میں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اربوں ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرتا رہا ہے، جس کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تعلیم کے مختلف شعبوں میں تحقیق کی حمایت کی جاتی رہی ہے۔ اخراجات کم کرنے کے اقدامات کے دوران 1600 سے زائد گرانٹس منسوخ یا معطل کی گئیں، جن کی مالیت تقریباً 1 ارب ڈالر تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈ کی مکمل برطرفی امریکا میں سائنسی تحقیق کے مستقبل پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس ادارے کو دو جماعتی حمایت حاصل رہی ہے، لیکن اب اس بات پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ آئندہ فیصلے کس طرح کیے جائیں گے اور کیا سائنسی ترجیحات سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رہ سکیں گی۔