تازہ خبریں طرز زندگی
امریکا-اسرائیل جنگ سے ایران پر پابندیوں کا نظام کمزور ہونے لگا

 کئی برسوں سے سیاسیات اور سماجیات کے ماہرین یہ مؤقف پیش کرتے رہے ہیں کہ معاشی پابندیاں اکثر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے عام شہریوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، جبکہ حکمران نظام بڑی حد تک برقرار رہتا ہے۔ اس کے باوجود، خاص طور پر امریکا کے لیے پابندیاں خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہتھیار بنی رہی ہیں۔ تاہم ایران کے خلاف جاری امریکا-اسرائیل جنگ اس حکمت عملی کی محدودیت کو واضح کر رہی ہے۔

یہ تنازع روایتی مالی نظام سے دوری کو تیز کر رہا ہے، جو پابندیوں کے نفاذ کی بنیاد رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کی طاقت کا بڑا سبب عالمی تجارت میں امریکی ڈالر کی بالادستی ہے۔ چونکہ زیادہ تر بین الاقوامی لین دین ڈالر میں ہوتا ہے، اس لیے کسی ملک کو اس سے محروم کرنا تجارت کو روکنے کے مترادف ہوتا ہے۔ مگر اب اس نظام کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایران اور اس کے شراکت دار متبادل مالی ذرائع، خاص طور پر کرپٹو کرنسی، کے استعمال میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسیاں روایتی بینکاری نظام سے باہر لین دین کی سہولت دیتی ہیں، جس سے انہیں مانیٹر کرنا یا روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پابندیوں کا سامنا کرنے والے اداروں کے درمیان کرپٹو کرنسی کا استعمال ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ایران ان ڈیجیٹل اثاثوں کو چینی کرنسی رینمنبی سمیت دیگر کرنسیوں میں تبدیل کر کے ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کر رہا ہے۔

رینمنبی کا بڑھتا ہوا استعمال دراصل ڈی ڈالرائزیشن کے وسیع رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ چین، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، پہلے ہی اپنی کرنسی میں لین دین کرتا ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی آہستہ آہستہ اسی راستے پر چل رہے ہیں، جس سے امریکی پابندیوں کی پہنچ محدود ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ غیر رسمی مالی نظام بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حوالہ جیسے نیٹ ورک، جو روایتی بینکاری چینلز کے بجائے باہمی اعتماد پر مبنی ہوتے ہیں، سرحد پار رقوم کی منتقلی کا مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ نظام کاروبار کو پابندیوں سے بچاتے ہوئے تجارت جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

بارٹر یعنی اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ بھی دوبارہ مقبول ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک بغیر پیسے کے براہ راست سامان کا تبادلہ کر رہے ہیں، جس سے پابندیوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ ماضی میں چائے یا زرعی اجناس کے بدلے تجارت کے معاہدے اس کی مثال ہیں، اور موجودہ جنگ اس رجحان کو مزید وسعت دے رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول بھی معاشی منظرنامے کو بدل رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ ایک اہم عنصر بن چکا ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ متبادل ادائیگی طریقوں کو قبول کر کے ایران غیر ڈالر نظام کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

اگرچہ امریکی ڈالر کی عالمی برتری فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ تیل کی زیادہ تر تجارت اب بھی اسی میں ہوتی ہے، تاہم رجحان واضح ہے کہ پابندیوں کا نظام بتدریج کمزور ہو رہا ہے۔

یہ جنگ غیر ارادی طور پر ایک ایسے متوازی معاشی نظام کو فروغ دے رہی ہے جو مغربی کنٹرول سے باہر ہے۔ ایران کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے یہ عمل اسے متبادل عالمی تجارتی ڈھانچوں میں مزید شامل کر رہا ہے۔

یہ صورتحال ایک بڑے تضاد کو بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں خود اس عالمی مالیاتی نظام کو کمزور کر رہی ہیں جس پر یہ پابندیاں قائم ہیں۔
News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·