پاناما کینال سے متعلق ایک اہم عدالتی فیصلے کے بعد ایک نیا سفارتی تنازع سامنے آیا ہے، جس میں امریکہ اور کئی لاطینی امریکی ممالک نے چین پر پاناما کے خلاف معاشی جوابی کارروائی کا الزام لگایا ہے۔
بولیویا، کوسٹا ریکا، گیانا، پیراگوئے اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں پاناما کی حمایت اور چین کی جانب سے مبینہ ہدفی معاشی دباؤ کی مذمت کی گئی۔ یہ ردعمل پاناما کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں ہانگ کانگ میں قائم کمپنی سی کے ہچیسن کی ذیلی کمپنی کے ساتھ طویل عرصے سے جاری معاہدوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ ان معاہدوں کے تحت کمپنی بالبوا اور کرسٹوبل بندرگاہوں کو چلا رہی تھی۔ عدالت نے انہیں غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کمپنی کا کنٹرول ختم کر دیا۔
امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کے بعد چین نے مارچ میں تقریباً 70 پانامانی پرچم بردار جہازوں کو روک لیا، جو معمول سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔ واشنگٹن نے اس اقدام کو عالمی جہاز رانی کو سیاسی بنانے اور پاناما کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاناما پر دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ حکام نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ پاناما کے پرچم تلے رجسٹرڈ جہاز عالمی اور امریکی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی عدالتی فیصلے پر تنقید کی تھی اور معاشی دباؤ ڈالنے کے دعوؤں کی تردید کی۔ بیجنگ نے امریکہ پر بھی الزام لگایا کہ وہ لاطینی امریکہ میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاناما کینال عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تجارت کے ایک بڑے حصے کو سنبھالتا ہے۔ اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینال پر غیر ملکی اثر و رسوخ پر خدشات ظاہر کیے اور امریکی کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں دلچسپی کا اشارہ دیا۔
اس تنازع سے بڑی عالمی شپنگ کمپنیوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ کمپنیوں کو چینی حکام کی جانب سے جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایک بڑی چینی شپنگ کمپنی نے کینال کے ایک اہم ٹرمینل پر اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
دوسری جانب سی کے ہچیسن نے پاناما کے خلاف بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اربوں ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی بحری راستے اب جغرافیائی سیاست کا اہم ہتھیار بنتے جا رہے ہیں۔ پاناما کینال، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم راستے سیاسی دباؤ کے لیے حساس بن چکے ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین اور معاشی استحکام پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔