تازہ خبریں طرز زندگی
غزہ میں سیزیرین پیدائشوں میں اضافہ، ماؤں کے لیے صحت کے خطرات بڑھ گئے

 غزہ میں سیزیرین آپریشن کے ذریعے پیدائشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے ماؤں کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ جنگ، بے گھری اور کمزور طبی نظام کا سامنا کر رہا ہے۔


24 سالہ نئی ماں دعا ابو یوسف کو حمل کے نویں مہینے میں تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچنے کے بعد ہنگامی سیزیرین آپریشن سے گزرنا پڑا۔ وہ قدرتی پیدائش کی خواہش رکھتی تھیں، لیکن شدید خون کی کمی نے ڈاکٹروں کو فوری اقدام پر مجبور کر دیا تاکہ بچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔

ان کا حمل شدید مشکلات سے بھرا رہا، جن میں خوراک کی شدید کمی اور بنیادی غذائیت کا فقدان شامل تھا۔ گوشت، انڈے اور سپلیمنٹس جیسی ضروری غذاؤں کی عدم دستیابی نے ان کی صحت کو کمزور کر دیا، جس کے باعث انہیں مسلسل تھکن، سر درد اور متلی کا سامنا رہا۔

طبی ماہرین کے مطابق ایسے حالات اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر چار میں سے ایک پیدائش سیزیرین کے ذریعے ہو رہی ہے، اور تنازع بڑھنے کے بعد اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی حالات کے باعث ہسپتال پہنچنے میں تاخیر اکثر خواتین کو قدرتی پیدائش کے موقع سے محروم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ہنگامی آپریشن واحد حل رہ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ خواتین میں خطرات کے باوجود حمل اختیار کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ان میں جنہوں نے تنازع کے دوران اپنے اہلِ خانہ کو کھو دیا ہے۔ زیادہ عمر میں حمل، جو پہلے ہی طبی لحاظ سے خطرناک ہوتا ہے، اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

طبی عملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آلات اور عملے کی کمی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ جنین کی نگرانی کے آلات، لیبر کو تیز کرنے والی ادویات اور ہسپتالوں میں گنجائش کی کمی کے باعث سیزیرین آپریشن کو اکثر سب سے تیز اور محفوظ حل سمجھا جاتا ہے۔

تاہم سب سے بڑے خطرات آپریشن کے بعد سامنے آتے ہیں۔ خراب رہائشی حالات، غذائی قلت اور صاف پانی کی کمی کے باعث انفیکشن کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھیڑ بھاڑ والے پناہ گاہیں اور غیر صحت مند ماحول ماؤں کے لیے مناسب صحت یابی کو انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

35 سالہ ثناء الشکری کو سیزیرین کے بعد شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ چند دن بعد زخم میں انفیکشن کے باعث دوبارہ ہسپتال پہنچیں۔ خیمے میں رہائش اور صفائی کی ناقص سہولیات کے باعث وہ اپنی اور اپنے نومولود کی دیکھ بھال میں مشکلات کا شکار رہیں۔ ڈاکٹروں کو انفیکشن کے باعث ان کا زخم دوبارہ کھول کر صاف کرنا پڑا۔

طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اینٹی بایوٹکس کی کمی اور انفیکشن کی تشخیص کے لیے محدود لیبارٹری سہولیات مریضوں کی حالت کو مزید خراب کر رہی ہیں۔ خاص طور پر پروٹین اور آئرن کی کمی صحت یابی کے عمل کو سست کر دیتی ہے اور پیچیدگیوں کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔

غزہ میں بہت سی خواتین کے لیے بچے کی پیدائش اب امید کے ساتھ ساتھ ایک بڑا طبی خطرہ بھی بن چکی ہے۔ غیر مستحکم حالات کے باعث زچگی سے متعلق مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، جو فوری طبی امداد اور بہتر رہائشی سہولیات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·