تازہ خبریں طرز زندگی
فرانسیسی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کی جانب روانہ، بحری راستے محفوظ بنانے کی کوششیں

فرانس نے اپنے جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈی گال کو بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا ہے، جو آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ دفاعی مشن کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بحری راستوں کے تحفظ پر توجہ
فرانسیسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ جنگی جہاز نہر سویز کے جنوب کی جانب سفر کر رہا ہے اور اس کا مقصد اہم بحری راستے میں محفوظ جہاز رانی کی بحالی کی کوششوں میں مدد فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔ تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں تجارت ہونے والے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر ایک کثیر القومی مشن کی حمایت کر رہے ہیں، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ حکام کے مطابق یہ مجوزہ کارروائی دفاعی نوعیت کی ہوگی اور جنگ سے جڑی فوجی سرگرمیوں سے الگ رکھی جائے گی۔

یورپ کی سفارتی کوششیں
ایمانویل میکرون نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں استحکام کی بحالی سے شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، جو خطے میں عدم استحکام سے پریشان ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محفوظ بحری راستوں کی بحالی ایران کے جوہری پروگرام، میزائل سرگرمیوں اور علاقائی کشیدگی سے متعلق وسیع مذاکرات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

فرانسیسی حکومت نے اس تجویز کو ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کے طور پر پیش کیا ہے۔ فرانسیسی حکام کے زیر غور منصوبے کے مطابق ایران کو غیر محدود بحری آمد و رفت کی اجازت مل سکتی ہے، جبکہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اہم سکیورٹی معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہوگا۔ اس کے بدلے امریکہ خطے میں اپنی ناکہ بندی نرم کرے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران امریکہ کی جانب سے دی گئی ایک تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جس کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ جنگ کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے تجویز مسترد کر دی تو فوجی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

تاہم ایران نے اس تاثر کو کم اہمیت دی ہے کہ کوئی حتمی معاہدہ قریب ہے۔ تہران کے حکام کا کہنا ہے کہ تجویز کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ثالثوں کے ذریعے کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔

ممکنہ معاہدے پر غور
اطلاعات کے مطابق دونوں فریق ایک ایسے فریم ورک پر بات کر رہے ہیں جس میں ایران کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔ کسی بھی معاہدے کے بعد مخصوص مدت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور تجاویز کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس علاقے میں جہاز رانی میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی تیل منڈیوں، تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یورپی رہنما خطے میں استحکام پیدا کرنے اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دینے پر زور دے رہے ہیں۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·