علاقائی رہنماؤں کی توانائی بحران پر توجہ
جنوب مشرقی ایشیا کے رہنما فلپائن میں آسیان سربراہی اجلاس میں جمع ہوئے جہاں ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی اور توانائی کے بحران پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے کہا کہ اس تنازع نے خطے میں مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے جنوب مشرقی ایشیائی شہریوں سمیت لاکھوں لوگوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مارکوس نے آسیان رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ توانائی کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے کے لیے بہتر ہم آہنگی اور عملی اقدامات اختیار کریں۔ ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر پابندیوں کے بعد خطے کو تیل اور گیس کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
توانائی تعاون بڑھانے پر زور
توقع ہے کہ آسیان ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرے گا جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور توانائی و خوراک کے شعبوں میں علاقائی تعاون مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ تنظیم ایسے رضاکارانہ توانائی شیئرنگ معاہدے پر بھی غور کر رہی ہے جس سے مستقبل میں سپلائی میں رکاوٹوں سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
فلپائن نے آسیان پاور گرڈ کا تصور بھی پیش کیا ہے جس کے تحت 2045 تک خطے کے مختلف ممالک کے بجلی کے نظام ایک دوسرے سے منسلک کیے جائیں گے۔ تھائی لینڈ، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں پر کنٹرول اور گھر سے کام کرنے جیسی ہنگامی توانائی بچاؤ پالیسیاں نافذ کر چکے ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا کے بعض حصوں میں پیٹروکیمیکل کمپنیوں نے سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث فورس میجور کا اعلان بھی کیا ہے۔
علاقائی سلامتی پر تشویش برقرار
اجلاس میں علاقائی سلامتی اور بحری راستوں کی آزادی کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے، خاص طور پر جنوبی بحیرہ چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔ آسیان کے کئی رکن ممالک متنازع سمندری دعوؤں اور بڑھتی فوجی سرگرمیوں پر تشویش رکھتے ہیں۔
اجلاس کے دوران تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں نے اپنے سرحدی تنازع پر بھی بات چیت کی۔ دونوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے اور متنازع سرحدی علاقوں میں مبصرین کو رسائی دینے پر اتفاق کیا، تاہم کسی حتمی حل کا اعلان نہیں کیا گیا۔
آسیان رہنما ایران جنگ کے اثرات کے پیش نظر معاشی تعاون، علاقائی استحکام اور طویل مدتی توانائی تحفظ پر مزید مذاکرات جاری رکھنے والے ہیں۔