جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر اس عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے جس کا اعلان ماسکو نے دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر سوویت فتح کی یاد میں منائے جانے والے وکٹری ڈے کے موقع پر کیا تھا۔
کریملن کے مطابق روسی فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کی صبح یوکرین کے 264 ڈرون مار گرائے جن میں ماسکو اور پرم ریجن کے قریب مبینہ حملوں کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ روسی حکام نے بتایا کہ جنوبی روس کے 13 ہوائی اڈوں پر ڈرون حملوں کے باعث عارضی طور پر پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔
روس کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق جنوبی روس میں ایک ڈرون حملے میں فضائی ٹریفک آپریشنز سے منسلک ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یوکرین کا روس پر حملوں کا الزام
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود روسی حملے رات بھر جاری رہے۔ ان کے مطابق روسی افواج نے محاذی علاقوں پر 140 سے زائد حملے کیے اور سینکڑوں ڈرون حملے بھی کیے گئے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین روسی حملوں کا جواب دیتا رہے گا اور اپنے شہریوں اور سرزمین کا دفاع جاری رکھے گا۔ یوکرین نے روس کے یاروسلاول ریجن میں ایک آئل تنصیب پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور اسے یوکرینی شہروں پر حملوں کا جواب قرار دیا۔
کیف نے اس سے قبل 6 مئی سے ایک وسیع اور غیر معینہ مدت کی جنگ بندی کی تجویز دی تھی، تاہم روس نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
وکٹری ڈے تقریبات پر جنگ کے سائے
یہ جنگ بندی روس کی سالانہ وکٹری ڈے تقریبات کے موقع پر نافذ کی گئی تھی، جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں منائی جاتی ہیں۔
روسی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب زیلنسکی نے ماسکو پر الزام لگایا کہ جنگ بندی کا مقصد صرف فوجی تقریبات کو محفوظ بنانا تھا جبکہ دیگر علاقوں میں لڑائی جاری رہی۔
مسلسل الزامات اور حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں کسی بھی عارضی جنگ بندی کی صورتحال انتہائی نازک ہے اور وسیع امن معاہدے کے آثار فوری طور پر دکھائی نہیں دے رہے۔