شمال مغربی پاکستان کے ایک گنجان بازار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک جبکہ تقریباً 30 دیگر زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق منگل کے روز یہ دھماکہ افغان سرحد کے قریب ضلع لکی مروت کے قصبے سرائے نورنگ میں بارود سے بھری ایک رکشہ گاڑی کے ذریعے کیا گیا۔
مقامی پولیس چیف عظمت اللہ نے بتایا کہ حملے میں دو ٹریفک پولیس اہلکار اور ایک خاتون بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
دھماکے میں درجنوں زخمی
ریسکیو ادارے ریسکیو 1122 کے مطابق تقریباً 30 زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں بنوں کے طبی مراکز بھی شامل ہیں جہاں شدید زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
ٹی ایچ کیو اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محمد اسحاق نے کہا کہ اسپتال میں 37 مریض لائے گئے جن میں کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ذمہ داری قبول نہیں کی گئی
اب تک کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ حملہ چند روز قبل قریبی ضلع بنوں میں ایک سکیورٹی چوکی پر ہونے والے بم دھماکے اور مسلح حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 21 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی حکام نے اس حملے کا الزام تحریک طالبان پاکستان پر عائد کیا تھا۔ یہ مسلح گروہ افغانستان کی طالبان حکومت سے الگ ہے لیکن اس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔
علاقائی کشیدگی برقرار
پاکستان مسلسل افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں میں ملوث ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو پناہ دے رہی ہے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔
افغان طالبان کی کابل میں واپسی کے بعد سے پاکستان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سرحدی کشیدگی اور مسلح حملے حالیہ برسوں میں بڑھ گئے ہیں۔
اگرچہ اس سال کے آغاز میں چین کی ثالثی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تشدد کم کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے تھے، لیکن سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔