تازہ خبریں طرز زندگی
آبنائے ہرمز سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کو 112 ممالک کی حمایت

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے مطالبے پر مبنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کو 112 ممالک کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے گرد بڑھتی کشیدگی پر عالمی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔

بحرین اور امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی اس مسودہ قرارداد کا مقصد تجارتی جہاز رانی، توانائی کی فراہمی اور بحری سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ اس میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

قطر، سعودی عرب اور کویت بھی بحرین اور واشنگٹن کے ساتھ اس قرارداد کے مرکزی معاون ممالک میں شامل ہو گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، کینیا، ارجنٹینا اور یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی ہے، جس سے یہ سلامتی کونسل میں زیر غور سب سے زیادہ حمایت یافتہ تجاویز میں شامل ہو گئی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ واشنگٹن نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے اور آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں ہٹائے، جبکہ ایران نے پابندیاں ختم کرنے، جنگی ہرجانے، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ امن کے بجائے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے مطالبات کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے کم از کم شرائط ہیں۔

یہ بحرین کی جانب سے پیش کی جانے والی دوسری ایسی قرارداد ہے۔ گزشتہ ماہ پیش کی گئی ایک سابقہ قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا تھا، اور اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک نے نئے مسودے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل میں ووٹنگ کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔

علاقائی سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان دوحہ پہنچے جہاں انہوں نے قطری قیادت سے ملاقاتیں کیں اور آبنائے ہرمز کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے عالمی جہاز رانی کے لیے راستہ دوبارہ کھولنے پر زور دیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے۔ مذاکرات میں ایران سے متعلق تنازع مرکزی موضوع ہوگا۔ چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے اور بحران کے دوران بھی تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں خدشات برقرار ہیں، جبکہ ماہرین کو خوف ہے کہ طویل رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·