امریکہ میں ایک وفاقی جج نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق ماہر فرانسسکا البانیز پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ یہ پابندیاں اسرائیل کی غزہ جنگ پر ان کی تنقید کے بعد لگائی گئی تھیں۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون نے بدھ کو ابتدائی حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پابندیوں کو معطل کر دیا جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عدالت میں جاری رہے گی۔
اپنے فیصلے میں جج لیون نے کہا کہ یہ پابندیاں بظاہر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات سے متعلق البانیز کی محفوظ اظہارِ رائے اور خیالات کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔
جج نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا، “البانیز نے صرف بات کی ہے”، اور مزید کہا کہ ان کی سفارشات کسی قسم کی قانونی پابندی نہیں رکھتیں بلکہ “صرف ان کی رائے” ہیں۔
فرانسسکا البانیز 2022 سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے خصوصی نمائندہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ متعدد بار غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کر چکی ہیں اور مبینہ انسانی حقوق خلاف ورزیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جولائی 2025 میں اطالوی قانونی ماہر پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف “متعصبانہ اور بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں” میں ملوث ہیں۔ حکام نے اسرائیلی اور امریکی شہریوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ممکنہ تحقیقات کی حمایت پر بھی تنقید کی تھی۔
ان پابندیوں کے تحت البانیز کے امریکہ داخلے، امریکی بینکاری اور ادائیگی کے نظام کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی تھی، جبکہ امریکہ میں افراد اور اداروں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے بھی روکا گیا تھا۔
اس سال کے آغاز میں البانیز کے شوہر اور بیٹی نے ان پابندیوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلسطینیوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں کی نشاندہی کرنے پر انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
مقدمے میں کہا گیا کہ ان پابندیوں نے عملی طور پر البانیز کو “بینکاری نظام سے باہر” کر دیا اور ان کے لیے روزمرہ زندگی کی معمول کی سرگرمیاں انجام دینا مشکل بنا دیا۔
فیصلے کے بعد البانیز نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اپنے خاندان اور حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے لکھا، “میری بیٹی اور شوہر کا شکریہ جنہوں نے میرا دفاع کرنے کے لیے قدم اٹھایا، اور ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ جنہوں نے اب تک مدد کی۔”
عدالت اب اس معاملے میں پابندیوں کی آئینی اور قانونی حیثیت کا مزید جائزہ لے گی جبکہ مقدمہ جاری رہنے کی توقع ہے۔