تازہ خبریں طرز زندگی
یمن کے فریقین خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سب سے بڑے قیدی تبادلے پر متفق

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی گروپ نے 1600 سے زائد قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کر لیا ہے، جسے حکام نے 2014 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سب سے بڑا قیدی تبادلہ قرار دیا ہے۔

یہ معاہدہ اردن کے دارالحکومت عمان میں اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والے مذاکرات کے دوران طے پایا، جو دونوں فریقوں کے درمیان کئی ماہ کی بات چیت کے بعد ممکن ہوا۔

حوثی حکام کے مطابق گروپ 580 قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں سات سعودی شہری اور 20 سوڈانی قیدی شامل ہیں۔ اس کے بدلے یمنی حکومت تقریباً 1100 حوثی قیدیوں کو رہا کرے گی۔

حکومتی مذاکرات کار یحییٰ کزمان نے کہا کہ معاہدے کے تحت دونوں جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 1728 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، اور اسے تنازع کے دوران ہونے والا “سب سے بڑا” قیدی تبادلہ قرار دیا۔

یہ معاہدہ گزشتہ سال عمان کے شہر مسقط میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں مستقبل میں مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے اضافی مذاکرات کا بھی منصوبہ شامل ہے۔

دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ وہ ایک دوسرے کے حراستی مراکز کے دوروں کی اجازت دیں گے اور اس عمل کو انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا، جو قیدیوں کی منتقلی اور خاندانوں سے ملاپ کی نگرانی کرے گی۔

حکام کے مطابق معاہدے میں فوجی اہلکار، سیکیورٹی افسران، سیاسی قیدی، صحافی اور دونوں جانب سے برسوں سے قید جنگجو شامل ہیں۔

حوثیوں نے اس معاہدے کو ایک اہم انسانی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قیدیوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ گروپ نے تمام قیدیوں کی رہائی کے وسیع تر “سب کے بدلے سب” منصوبے کی حمایت بھی دہرائی۔

آئی سی آر سی نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جنگ سے متعلق انسانی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

یمن میں آئی سی آر سی کی سربراہ کرسٹین چیپولا نے کہا کہ اس معاہدے نے خاندانوں کو طویل انتظار کے بعد اپنے پیاروں سے ملنے کے قریب کر دیا ہے، اور تنظیم قیدیوں کی رہائی کے عمل میں غیرجانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل اپریل 2023 میں بھی ایک بڑے قیدی تبادلے کے دوران تقریباً 900 قیدیوں کو آئی سی آر سی کی نگرانی میں رہا کیا گیا تھا۔

یمن کا تنازع اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس کے اگلے سال سعودی قیادت میں اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی، جس کے بعد یہ تنازع ایک طویل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔

اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یمن کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے اور ملک دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار بن چکا ہے۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·