تازہ خبریں طرز زندگی
ٹرمپ-شی جن پنگ سربراہی ملاقات اختتام پذیر، امریکا چین تجارتی پیش رفت کی محدود امیدیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی اہم سربراہی ملاقات محدود پیش رفت کی توقعات کے ساتھ اختتام پذیر ہونے جا رہی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے تعلقات میں صرف معمولی بہتری متوقع ہے۔

چین روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر چینی معیشت کو “مزید کھولنے” کے لیے زور دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ایلون مسک، ٹم کک اور جینسن ہوانگ سمیت کئی بڑے امریکی کاروباری رہنما ان کے ہمراہ دورے میں شریک ہوں گے۔

اعلیٰ سطحی وفد اور عالمی توجہ کے باوجود مبصرین کا ماننا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد کسی بڑے تجارتی معاہدے کے بجائے کشیدہ تعلقات کو مستحکم کرنا زیادہ ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں رہنما گزشتہ سال جنوبی کوریا میں طے پانے والی تجارتی جنگ میں ایک سالہ وقفے میں توسیع پر اتفاق کریں گے۔ تاہم تجارت، مصنوعی ذہانت، جدید سیمی کنڈکٹرز، تائیوان اور جغرافیائی سیاسی مقابلے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے بوئنگ کے 200 طیارے خریدنے اور امریکی تیل و زرعی مصنوعات کی درآمدات بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی سرمایہ کاری کی صورت میں سیکڑوں ارب ڈالر امریکی کمپنیوں میں آ سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایران تنازع کے دوران عالمی توانائی کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق چین ممکنہ طور پر سویابین، گائے کے گوشت اور طیاروں جیسی امریکی مصنوعات کی درآمدات بڑھانے پر آمادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان شعبوں میں چینی طلب پہلے سے موجود ہے۔ تاہم وسیع پیمانے پر معاشی اصلاحات کی توقعات کم ہیں۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ ایسے بڑے سمجھوتے کرنے سے گریز کرے گا جو اس کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اپنی مقامی صنعتوں کو مضبوط اور امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کر رہا ہے۔

ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز پر پابندیاں بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہیں۔ واشنگٹن نے چین کو جدید اے آئی چپس کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ بیجنگ نے نایاب معدنیات پر اپنی گرفت کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے۔

اگرچہ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ بھی ٹرمپ کے وفد میں شامل تھے، امریکی حکام کے مطابق چپ ایکسپورٹ کنٹرولز مذاکرات کا مرکزی موضوع نہیں تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک حالیہ تجارتی تنازعات اور عالمی کشیدگی کے دوران سامنے آنے والی سپلائی چین کمزوریوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دونوں طاقتوں کے درمیان تجارتی تعلقات ماضی کے مقابلے میں اب بھی محدود ہیں۔ دونوں جانب عائد اوسط ٹیرف ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جبکہ باہمی تجارت بھی 2022 کی بلند ترین سطح سے کم ہو چکی ہے۔

مبصرین کے مطابق اس ملاقات کا ممکنہ نتیجہ صرف کشیدگی کے عارضی انتظام تک محدود رہے گا، نہ کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اختلافات کے مستقل حل تک۔

جہاں ٹرمپ آئندہ امریکی انتخابات سے قبل معاشی کامیابیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہیں شی جن پنگ داخلی سطح پر کمزور نظر آنے سے بچتے ہوئے استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں علامتی اقدامات، محدود تجارتی وعدے اور مستقبل میں مذاکرات جاری رکھنے کے اعلانات شامل ہوں گے، نہ کہ بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·