تازہ خبریں طرز زندگی
پیوٹن ٹرمپ کے اہم بیجنگ سربراہی اجلاس کے چند دن بعد چین کا دورہ کریں گے

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 19 سے 20 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کا مقصد ماسکو اور بیجنگ کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

کریملن نے اعلان کیا کہ پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ بیجنگ میں ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان “جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون” کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو کریں گے۔

پیوٹن چینی وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ بھی مذاکرات کریں گے، جہاں تجارت اور اقتصادی تعلقات پر بات چیت متوقع ہے، کیونکہ دونوں ممالک مغرب کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔

روسی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دورہ روس اور چین کے درمیان 2001 میں دستخط کیے گئے “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے” کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، جس نے دونوں ممالک کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی بنیاد مضبوط کی تھی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں چین کا اہم دورہ مکمل کیا، جو تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا بیجنگ دورہ تھا۔

اگرچہ ٹرمپ اور شی نے اپنے سربراہی اجلاس میں تجارت اور عالمی سلامتی کے معاملات پر بات کی، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق تائیوان، مصنوعی ذہانت اور ایران سے متعلق جاری تنازع جیسے اہم مسائل پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

رہنماؤں نے روس یوکرین جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں چین نے بظاہر غیرجانبدار مؤقف اختیار کر رکھا ہے لیکن ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

روس کے 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے سے کچھ ہی پہلے چین اور روس نے “لامحدود شراکت داری” کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد بیجنگ نے ماسکو کے ساتھ تجارت میں نمایاں اضافہ کیا اور مغربی پابندیوں کے بعد روس کا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار بن گیا۔

چین روسی تیل اور توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار خریدتا رہا ہے جبکہ چینی یوان اور روسی روبل میں تجارت کو بھی وسعت دی گئی ہے۔

مغربی حکومتیں بارہا چین پر الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ وہ تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے بالواسطہ طور پر روس کی جنگی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔ بیجنگ نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ چینی کمپنیوں نے یوکرین جنگ میں استعمال ہونے والے روسی ڈرونز کی پیداوار برقرار رکھنے میں مدد دی۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات تجارت، ٹیکنالوجی پابندیوں اور ایشیا پیسیفک خطے میں فوجی کشیدگی کے باعث بدستور تناؤ کا شکار ہیں، جبکہ چین اور روس مغربی غلبے اور یکطرفہ پابندیوں کے خلاف مشترکہ مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ شی جن پنگ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان مزید مضبوط اسٹریٹجک رابطے پر زور دیا تھا۔

شی نے گزشتہ سال روس کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے ماسکو کی حمایت کرتے ہوئے مغرب پر “غلبے پر مبنی دباؤ” ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیوٹن کا آئندہ دورہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرے گا کہ عالمی سطح پر بڑھتے جغرافیائی سیاسی مقابلے کے دوران چین اور روس کے تعلقات مزید قریب ہو رہے ہیں۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·